عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت کی سعادت چاہتا ہوں
شہِ دیں کی اطاعت چاہتا ہوں
ہیں فتنے ہر طرف مولا کرم کر
میں ایماں کی حفاظت چاہتا ہوں
طفیلِ حضرت صدیق اکبرؓ
میں باتوں میں صداقت چاہتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت کی سعادت چاہتا ہوں
شہِ دیں کی اطاعت چاہتا ہوں
ہیں فتنے ہر طرف مولا کرم کر
میں ایماں کی حفاظت چاہتا ہوں
طفیلِ حضرت صدیق اکبرؓ
میں باتوں میں صداقت چاہتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فرشتے اپنے پروں میں انہیں چھپاتے ہیں
نبیؐ کی شان میں جو محفلیں سجاتے ہیں
ہزاروں کوششیں کرتے ہیں صاحب ثروت
مگر پہنچتے ہیں طیبہ جنہیں بلاتے ہیں
جو اک اشارہ صحابہ کو کر دیں شاہِ امم
خدا کی راہ میں وہ گھر بار سب لٹاتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فضلِ خدا سے صاحب قرآن ہو گئے
ہم عاصیوں کے آپﷺ نگہبان ہو گئے
بے مثل و بے مثال ہیں افعالِ مصطفیٰﷺ
مکہ کے لوگ دیکھ کے حیران ہو گئے
عشاقِ مصطفیٰﷺ کو ملا تھا وہ حوصلہ
ہر ہر ادا سے آقاﷺ پہ قربان ہو گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لکھوں نبیؐ کی نعت جو سلطان نعت ہے
آیاتِ بَیِّنات میں عنوانِ نعت ہے
شہر نبیؐ کے کوچہ و بازار کی صدا
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کرتا ہوں مصطفٰیﷺ کی ثناء خوانی اس لیے
بخشش کے واسطے مِرے دامانِ نعت ہے