عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت کی سعادت چاہتا ہوں
شہِ دیں کی اطاعت چاہتا ہوں
ہیں فتنے ہر طرف مولا کرم کر
میں ایماں کی حفاظت چاہتا ہوں
طفیلِ حضرت صدیق اکبرؓ
میں باتوں میں صداقت چاہتا ہوں
یہ دنیا لاکھ بہکائے مگر میں
ضیائے استقامت چاہتا ہوں
نہ ہو گا جب کوئی محشر میں حامی
پیمبرﷺ کی شفاعت چاہتا ہوں
بتاؤں کیا تمنا ہے یہی بس
"مدینے کی زیارت چاہتا ہوں"
حسینِؑ پاک کے صدقے میں نیر
مدینے میں شہادت چاہتا ہوں
نیر جونپوری
No comments:
Post a Comment