Tuesday, 27 January 2026

راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا

 راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا

میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا دے شاہا

جانے انجانے میں جو جرم ہوئے ہیں مجھ سے

میرے ان جرموں کی فہرست جلا دے شاہا

ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مِرا سوزاں ہے

اپنے دامن کی اسے ٹھنڈی ہوا دے شاہا

نورِ وحدت کی ادھر بھی ہو عطا کوئی کرن

دلِ تِیرہ میں جو ایماں کی جِلا دے شاہا

نہیں معلوم، یہ اُفتاد پڑی ہے کیسی

باندھتا توڑتا رہتا ہوں ارادے شاہا

یہ کسی پل بھی مجھے لینے نہیں دیتے قرار

میرے بیمار ارادوں کو شفا دے شاہا

یہ میرا دل ہے وہ ناؤ کہ جو منجدھار میں ہے

ڈوبتی ناؤ کنارے پہ لگا دے شاہا


احمد راہی

No comments:

Post a Comment