راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا
میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا دے شاہا
جانے انجانے میں جو جرم ہوئے ہیں مجھ سے
میرے ان جرموں کی فہرست جلا دے شاہا
ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مِرا سوزاں ہے
اپنے دامن کی اسے ٹھنڈی ہوا دے شاہا
نورِ وحدت کی ادھر بھی ہو عطا کوئی کرن
دلِ تِیرہ میں جو ایماں کی جِلا دے شاہا
نہیں معلوم، یہ اُفتاد پڑی ہے کیسی
باندھتا توڑتا رہتا ہوں ارادے شاہا
یہ کسی پل بھی مجھے لینے نہیں دیتے قرار
میرے بیمار ارادوں کو شفا دے شاہا
یہ میرا دل ہے وہ ناؤ کہ جو منجدھار میں ہے
ڈوبتی ناؤ کنارے پہ لگا دے شاہا
احمد راہی
No comments:
Post a Comment