Monday, 26 January 2026

مرے خلاف زباں اپنی کھولنے والے

 مرے خلاف زباں اپنی کھولنے والے 

عجیب لوگ ہیں رازوں کو ڈھونڈنے والے 

شکم میں بغض رکھیں اور آنکھ کا روزہ 

سماعتوں میں سبھی شہد گھولنے والے 

تمہیں خبر ہی نہیں ہے عذابِ قوم شعیب

عقیدتوں کو ترازو میں تولنے والے

ڈرا دیا ہے جو سانپوں کا وسوسہ دے کر

مکیں نہیں تھے خزینے کو لوٹنے والے

ترے قدم سے میں پہلے قدم نہیں رکھتا

مرے عزیز نشاں میرا کھوجنے والے

وہ شاہ زادی اسی واسطے سنبھلتی رہی

کہ بیچ راہ میں پاؤں تھے ڈولنے والے


شعیب عدن

No comments:

Post a Comment