مرے خلاف زباں اپنی کھولنے والے
عجیب لوگ ہیں رازوں کو ڈھونڈنے والے
شکم میں بغض رکھیں اور آنکھ کا روزہ
سماعتوں میں سبھی شہد گھولنے والے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے عذابِ قوم شعیب
عقیدتوں کو ترازو میں تولنے والے
ڈرا دیا ہے جو سانپوں کا وسوسہ دے کر
مکیں نہیں تھے خزینے کو لوٹنے والے
ترے قدم سے میں پہلے قدم نہیں رکھتا
مرے عزیز نشاں میرا کھوجنے والے
وہ شاہ زادی اسی واسطے سنبھلتی رہی
کہ بیچ راہ میں پاؤں تھے ڈولنے والے
شعیب عدن
No comments:
Post a Comment