سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے
لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے
دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں
چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے
میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے
اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے
دے رہا ہوں اپنا دل اس کو جو چاہے وہ کرے
ہنس کے دل کو توڑ دینا اس کی عادت ہے تو ہے
منتظر رہتا ہوں اس کا ہر گھڑی اس موڑ پر
دیکھ کر منہ پھیر لینا گر نزاکت ہے تو ہے
مجھ کو ہے تسکین کہ میں بانٹتا رہتا ہوں پیار
آپ کے دل میں اگر مجھ سے عداوت ہے تو ہے
صلاح الدین تسکین
No comments:
Post a Comment