Monday, 12 January 2026

سنگدل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے

 سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے

لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے

دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں

چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے

میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے

اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے

دے رہا ہوں اپنا دل اس کو جو چاہے وہ کرے

ہنس کے دل کو توڑ دینا اس کی عادت ہے تو ہے

منتظر رہتا ہوں اس کا ہر گھڑی اس موڑ پر

دیکھ کر منہ پھیر لینا گر نزاکت ہے تو ہے

مجھ کو ہے تسکین کہ میں بانٹتا رہتا ہوں پیار

آپ کے دل میں اگر مجھ سے عداوت ہے تو ہے


صلاح الدین تسکین

No comments:

Post a Comment