Friday, 16 January 2026

میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر

 زیبرا کراسنگ


میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر

اس امید پر شاید

وہ ادھر سے گزرے گا

اور ایک پل رک کر

خود سے وہ یہ بولے گا

اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں

زیبرا کراسنگ سے مجھ کو ایک پل دے دے

میں جہاں پہ خود رک کر

خود پہ بھی نظر ڈالوں

اور بس یہی لمحہ

خواہشوں کی جھیلوں پر

برف کی طرح جم کر

میرے ذہن و دل پر بھی

زیبرا کراسنگ سی

لائنیں بنا دے گا

اور یہ بھاگتے لمحے

کچھ گھڑی کو ٹھہرے تو

تم بھی یاد آؤ گے ہم بھی یاد آئیں گے


ملکہ نسیم

No comments:

Post a Comment