زیبرا کراسنگ
میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر
اس امید پر شاید
وہ ادھر سے گزرے گا
اور ایک پل رک کر
خود سے وہ یہ بولے گا
اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں
زیبرا کراسنگ سے مجھ کو ایک پل دے دے
میں جہاں پہ خود رک کر
خود پہ بھی نظر ڈالوں
اور بس یہی لمحہ
خواہشوں کی جھیلوں پر
برف کی طرح جم کر
میرے ذہن و دل پر بھی
زیبرا کراسنگ سی
لائنیں بنا دے گا
اور یہ بھاگتے لمحے
کچھ گھڑی کو ٹھہرے تو
تم بھی یاد آؤ گے ہم بھی یاد آئیں گے
ملکہ نسیم
No comments:
Post a Comment