Monday, 26 January 2026

دیر و حرم کے آخری درباں کی طرح ہوں

 دیر و حرم کے آخری درباں کی طرح ہوں

مندر میں تیرے آخری بھگواں کی طرح ہوں

گر میں نہ ہوں تو چاندنی بھی منعکس نہ ہو

اے چاند تیرے عکس فراواں کی طرح ہوں

میں چاہتوں کے کھیل میں لُٹتا ہوں بار بار

بازارِ عشق میں نرے نقصان کی طرح ہوں

چل ایک بات سن لے کہ لٹنے کے باوجود

میں دوستی کے آج بھی پیماں کی طرح ہوں

شاعر ہوں چند ساعتوں میں لوٹ جاؤں گا

ناداں میں تیرے واسطے مہماں کی طرح ہو


قاضی ظہیر احمد

No comments:

Post a Comment