زعفرانی کلام نئی تہذیب
نئی تعلیم تو نے حافظے پر کیا اثر ڈالا
کہ یاد آتے نہیں بھولے سے بھی احکام قرآنی
حیا جامے سے باہر ہو گئی اللہ ری آزادی
ابھی تھوڑی سی بڑھنے پائی تھی تعلیم نسوانی
مساوات اس کو کہتے ہیں نئی تہذیب کیا کہنا
کہ یکساں ہو گئی صورت زنانی اور مردانی
بنایا جائے اک قانون یہ حفظان صحت کا
سول سرجن کریں بچوں کی آئندہ مسلمانی
رفاہ عام کی دو چار باتیں ہم نے بتلا دیں
نہیں تو ایسی تجویزوں کی ہے فہرست طولانی
جہاں یہ قوم کی حالت ہو پھر اس کی شکایت کیا
گراں ہے عقلمندی اور بہت ارزاں ہے نادانی
ظریف لکھنوی
No comments:
Post a Comment