Friday, 23 January 2026

کیا پوچھتے ہو رنج والم اور طرح کے

 کیا پوچھتے ہو رنج والم اور طرح کے

یعنی رہے بھرتے وہ دم اور طرح کے

جاتے ہوئے مشکل تھا مسرت میں سنبھلنا

تھے واپسی پہ اپنے قدم اور طرح کے

دنیا سے جسے مطلب تکلیف جدا اس کی

دل والوں کے بس ہوتے ہیں غم اور طرح کے

مل بیٹھنا کسی اور سے مشکل نہیں‌ اتنا

لیکن ہے پریشانی کہ ہم اور طرح کے

لکھتے ہو اگر سچ تو یہ ذہن میں رکھنا

ہو جاتے ہیں پھر ہاتھ قلم اور طرح کے

ہونے لگیں پھر ان سے الفت کی جو باتیں

لینے لگے پھر روگ جنم اور طرح کے

چھونے کی اجازت ہے نہ پوجا ہی کی عامر

تُو نے بھی تو رکھے ہیں ‌صنم اور طرح کے


طفیل عامر

No comments:

Post a Comment