کیا پوچھتے ہو رنج والم اور طرح کے
یعنی رہے بھرتے وہ دم اور طرح کے
جاتے ہوئے مشکل تھا مسرت میں سنبھلنا
تھے واپسی پہ اپنے قدم اور طرح کے
دنیا سے جسے مطلب تکلیف جدا اس کی
دل والوں کے بس ہوتے ہیں غم اور طرح کے
مل بیٹھنا کسی اور سے مشکل نہیں اتنا
لیکن ہے پریشانی کہ ہم اور طرح کے
لکھتے ہو اگر سچ تو یہ ذہن میں رکھنا
ہو جاتے ہیں پھر ہاتھ قلم اور طرح کے
ہونے لگیں پھر ان سے الفت کی جو باتیں
لینے لگے پھر روگ جنم اور طرح کے
چھونے کی اجازت ہے نہ پوجا ہی کی عامر
تُو نے بھی تو رکھے ہیں صنم اور طرح کے
طفیل عامر
No comments:
Post a Comment