Friday, 23 January 2026

ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہے

 ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہے

دل لگانے کی عجب ہم نے سزا پائی ہے

اک نئے عزم نئے جوش کو دیکھا ہم نے

تیرے عاشق میں نئی بات نظر آئی ہے

مل کے ہاتھوں پہ میرا خونِ جگر کہنے لگے

رنگ کیسا مرے ہاتھوں پہ حنا لائی ہے

تیری صحبت بھی مرے ننگ کا باعث ہے سمجھ

میرے ملنے سے صنم گر تری رسوائی ہے

اور کیا اس کے سوا ہو گی عبادت ناصح

یار کا نقشِ کفِ پا ہے جبیں سائی ہے

محفلِ ناز کی یہ ساری کشش ہے نازی

ورنہ تقدیر مجھے کھینچ کے کیوں لائی ہے


عبدالطیف نازی

No comments:

Post a Comment