عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے
ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے
لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ
عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے
نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے
ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے
خطا کے بوجھ اترنے لگے کرم پا کر
بچا گناہ کا مارا حضور کے دم سے
ہزار غم تھے مگر چین دل کو آ ہی گیا
ملا ہے درد کا چارہ حضور کے دم سے
درودِ پاک کی برکت سے دل معطر ہے
ملا دلوں کو سہارا حضور کے دم سے
درِ نبیؐ سے جلا ہے محبتوں کا چراغ
کھلا نصیب کا تارا حضور کے دم سے
دلوں میں اسم محمدﷺ کی جگمگاہٹ ہے
یہ روشنی کا ہے دھارا حضور کے دم سے
سنور گئی مِری دنیا ثنائے سرورﷺ سے
قلم میں فیض یہ آیا حضور کے دم سے
حریمِ شوق میں نِسبت جیا حضور سے ہے
بروزِ حشر گزارا حضور کے دم سے
جیا قریشی
No comments:
Post a Comment