عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کی حسرت ہے کہ ہر آن مدینے میں رہے
"مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے"
دور کیسے وہ رہے آپؐ کے در سے مولاؐ
جس کے ہر درد کا درمان مدینے میں رہے
دیکھے انوارِ حرم اور جمالِ گنبدﷺ
نکہت و رنگ پہ قربان مدینے میں رہے
آگہی ملتی رہی، کُھلتے رہے عِلم کے در
ہم پہ دن رات یہ احسان مدینے میں رہے
لوٹ کے آ تو گئے آپؐ کے در سے لیکن
ایسا لگتا ہے دل و جان مدینے میں رہے
چین ملتا ہی نہیں دل کو کہیں اور صبا
اس کی خواہش ہے یہ نادان مدینے میں رہے
صبا عالم شاہ
"طرحی مصرعہ "مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے
اعظم چشتی
No comments:
Post a Comment