Monday, 12 January 2026

آنکھ بے خوابی پہ قرباں دل نثار انتظار

 آنکھ بے خوابی پہ قرباں دل نثار انتظار

اور ہی ہو گا کوئی شکوہ گزار انتظار

کر دیا ہے کس کے جلوے نے شکار انتظار

میں ہوں اور آٹھوں پہر وہ رہگزار انتظار

کوئی مجھ سے حشر کو ملنے کا وعدہ کر گیا

اک قیامت ہو گئے لیل و نہار انتظار

جب کسی کا وعدۂ فردا مجھے یاد آ گیا

پھر گئی میری نظر میں رہگزار انتظار

اب بھی ہے یہ حال دیکھا جس طرف دیکھا کیا

میری حیرانی ہے گویا یادگار انتظار

وہ چلے آتے ہیں بیتابانہ میرے پاس کیوں

اللہ اللہ جذبۂ بے اختیار انتظار

کس طرح وہ بوالہوس ہو وصل کا لذت شناس

جس نے لوٹی ہو نہ صائب کچھ بہار انتظار


صائب عاصمی

No comments:

Post a Comment