آنکھ بے خوابی پہ قرباں دل نثار انتظار
اور ہی ہو گا کوئی شکوہ گزار انتظار
کر دیا ہے کس کے جلوے نے شکار انتظار
میں ہوں اور آٹھوں پہر وہ رہگزار انتظار
کوئی مجھ سے حشر کو ملنے کا وعدہ کر گیا
اک قیامت ہو گئے لیل و نہار انتظار
جب کسی کا وعدۂ فردا مجھے یاد آ گیا
پھر گئی میری نظر میں رہگزار انتظار
اب بھی ہے یہ حال دیکھا جس طرف دیکھا کیا
میری حیرانی ہے گویا یادگار انتظار
وہ چلے آتے ہیں بیتابانہ میرے پاس کیوں
اللہ اللہ جذبۂ بے اختیار انتظار
کس طرح وہ بوالہوس ہو وصل کا لذت شناس
جس نے لوٹی ہو نہ صائب کچھ بہار انتظار
صائب عاصمی
No comments:
Post a Comment