میں نے جس روز تِری راہ سے ہٹ جانا ہے
تُو نے دنیا میرے قدموں سے لپٹ جانا ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ رستے ہی یہاں منزل ہیں
ہر مسافر یونہی رستے سے پلٹ جانا ہے
کب تلک شہرِ تمنا میں بکھرنا ہے مجھے
آخر اک روز مجھے خود میں سمٹ جانا ہے
میں کہ ہوں بر سرِ پیکار زمانے سے ابھی
آخر اپنے ہی مقابل مجھے ڈٹ جانا ہے
کوئی بھی چھاؤں ہمیشہ نہیں رہتی عظمیٰ
پیڑ آنگن کا بھی اک روز تو کٹ جانا ہے
عظمیٰ محمود
No comments:
Post a Comment