Saturday, 24 January 2026

بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے

 اب کی بیزار ہی لوٹ آئے ہیں گلزاروں سے

رنگ ہی لے گیا کوئی میرے نظاروں سے

اب یہ عالم ہے سناتے ہوئے ڈرتے ہیں نوید

بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے

خود کو پھر کس لیے بتلایا تھا چارہ فرما

اتنا پرہیز اگر تھا تجھے بیماروں سے

ہوس گل نے اجاڑا تھا ہمارا گلشن

ہائے بیکار الجھتے رہے ہم خاروں سے

راستے اور بھی منزل کی طرف جاتے تھے

ہم مگر سر ہی لڑاتے رہے دیواروں سے

آتے آتے مِرے دل کو بھی سکوں آ جاتا

نہ کہا ہوتا کبھی حال جو غمخواروں سے


مریم فاطمہ

No comments:

Post a Comment