اب کی بیزار ہی لوٹ آئے ہیں گلزاروں سے
رنگ ہی لے گیا کوئی میرے نظاروں سے
اب یہ عالم ہے سناتے ہوئے ڈرتے ہیں نوید
بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے
خود کو پھر کس لیے بتلایا تھا چارہ فرما
اتنا پرہیز اگر تھا تجھے بیماروں سے
ہوس گل نے اجاڑا تھا ہمارا گلشن
ہائے بیکار الجھتے رہے ہم خاروں سے
راستے اور بھی منزل کی طرف جاتے تھے
ہم مگر سر ہی لڑاتے رہے دیواروں سے
آتے آتے مِرے دل کو بھی سکوں آ جاتا
نہ کہا ہوتا کبھی حال جو غمخواروں سے
مریم فاطمہ
No comments:
Post a Comment