Wednesday, 14 January 2026

پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو

 پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو 

اچھا ہے کہ آئینے کو آئینہ دکھا دو 

جب برق کے احساں سے بچانا ہے خودی کو 

خود اپنے ہی نالوں سے نشیمن کو جلا دو 

وہ سامنے آتے نہیں اچھا تو نہ آئیں 

تم جذب محبت سے حجابات اٹھا دو 

گل کر سکیں جس کو نہ ہواؤں کے تھپیڑے 

وہ شمع زمانے میں محبت کی جلا دو 

تم نے تو نظر پھیر لی بھر کر نفس سرد 

لازم تھا کہ بھڑکے ہوئے شعلے کو ہوا دو 

زنداں سے نکلنے کی یہ تدبیر غلط ہے 

زنجیر کے ٹکڑے کرو دیوار گرا دو 

میں یہ نہیں کہتا کہ بجا ہی سہی لیکن 

رفعت پہ بھی بے جا کوئی الزام لگا دو 


رفعت سیٹھی

No comments:

Post a Comment