Tuesday, 20 January 2026

کیوں تم سے علاج دل شیدا نہیں ہوتا

 کیوں تم سے علاج دل شیدا نہیں ہوتا

کیا درد محبت کا مداوا نہیں ہوتا

طوفان بلا خیز ہے ہر اشک محبت

کیوں کر کہیں قطرہ کبھی دریا نہیں ہوتا

ملتا ہی نہیں ساغر مے بادہ کشوں کو

جب تک تِری آنکھوں کا اشارا نہیں ہوتا

چھن چھن کے امڈتی چلی آتی ہے تجلی

کوشش بھی کریں آپ تو پردا نہیں ہوتا

بے کار ہے ارباب زمانہ کی شکایت

کوئی بھی زمانے میں کسی کا نہیں ہوتا

جب تک کوئی منہ موڑ نہ لے دیر و حرم سے

اسرار حقیقت کا شناسا نہیں ہوتا

تیرے ستم و جور سے ہیں بند زبانیں

یعنی تِری بیداد کا چرچا نہیں ہوتا

شیدا یہ دعا ہے کہ برا وقت نہ آئے

اپنا بھی برے وقت میں اپنا نہیں ہوتا


شیدا انبالوی

بنارسی داس

No comments:

Post a Comment