کیوں تم سے علاج دل شیدا نہیں ہوتا
کیا درد محبت کا مداوا نہیں ہوتا
طوفان بلا خیز ہے ہر اشک محبت
کیوں کر کہیں قطرہ کبھی دریا نہیں ہوتا
ملتا ہی نہیں ساغر مے بادہ کشوں کو
جب تک تِری آنکھوں کا اشارا نہیں ہوتا
چھن چھن کے امڈتی چلی آتی ہے تجلی
کوشش بھی کریں آپ تو پردا نہیں ہوتا
بے کار ہے ارباب زمانہ کی شکایت
کوئی بھی زمانے میں کسی کا نہیں ہوتا
جب تک کوئی منہ موڑ نہ لے دیر و حرم سے
اسرار حقیقت کا شناسا نہیں ہوتا
تیرے ستم و جور سے ہیں بند زبانیں
یعنی تِری بیداد کا چرچا نہیں ہوتا
شیدا یہ دعا ہے کہ برا وقت نہ آئے
اپنا بھی برے وقت میں اپنا نہیں ہوتا
شیدا انبالوی
بنارسی داس
No comments:
Post a Comment