Thursday, 22 January 2026

ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے

 ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے

مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے

گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر

اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے

ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر

کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے

پلا کے جامِ فنا مجھ کو اک پل میں

امید و بیم کا جھگڑا چُکا دیا تُو نے

مجھے تو ذوقِ طلب نے دیا تھا جوشِ جنوں

مگر جنوں کو تدبر سکھا دیا تُو نے


اصغر حسن مجیبی

No comments:

Post a Comment