ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے
مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے
گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر
اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے
ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر
کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے
پلا کے جامِ فنا مجھ کو اک پل میں
امید و بیم کا جھگڑا چُکا دیا تُو نے
مجھے تو ذوقِ طلب نے دیا تھا جوشِ جنوں
مگر جنوں کو تدبر سکھا دیا تُو نے
اصغر حسن مجیبی
No comments:
Post a Comment