Friday, 16 January 2026

اس پہ ہو جائے اثر ایسا کہاں ہونا ہے

 اُس پہ ہو جائے اثر ایسا کہاں ہونا ہے

جتنا مرضی ہو ہُنر، ایسا کہاں ہونا ہے

تیری سوچوں سے مہکتا ہے مرا شہرِ سخن

کوئی خوشبو کا نگر ایسا کہاں ہونا ہے

ہو تو سکتا ہے کسی دن وہ نظر ڈھونڈے مجھے

ہو تو سکتا ہے مگر ایسا کہاں ہونا ہے

کیسی تسکیں کا ہے باعث ترے لہجے کی مٹھاس

شہد بھی ہو تو اثر ایسا کہاں ہونا ہے

ایک ہی خوف تو تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا خوف

اب کوئی ہو بھی تو ڈر ایسا کہاں ہونا ہے

کل جسے خواب میں چوما تھا، میسر ہے ابھی

خواب سے سچ کا سفر ایسا کہاں ہونا ہے

اس نے سینے سے لگا کر مجھے دی شعر کی داد

جو ریاضت ہو، ثمر ایسا کہاں ہونا ہے


زوہیر عباس

No comments:

Post a Comment