Showing posts with label وہبی لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label وہبی لکھنوی. Show all posts

Sunday, 8 March 2026

غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے

 غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے

خزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے

نکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے

ہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے

کسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک

برائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے

Thursday, 7 November 2024

ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے

 ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے

بلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنے

شرمائے اشک خوں سے گل تر بہار میں

رنگ چمن اڑا مرے داماں کے سامنے

گر خط سبز لب پہ ترے خضر دیکھ پائے

پھر منہ کرے نہ چشمۂ حیواں کے سامنے

Wednesday, 3 July 2024

شب فراق میں رویا کیا سحر کے لیے

 شب فراق میں رویا کیا سحر کے لیے

ترس ترس گئیں آہیں مِری اثر کے لیے

الٰہی خیر سے اس کی خبر ملے مجھ کو

چُھری ہے تیز وہاں مرغ نامہ بر کے لیے

بجا ہے بوسے کا گر نیل بن گیا رُخ پر

یہی تو داغ مناسب تھا اس قمر کے لیے

Monday, 1 July 2024

بے خبر ہوں دونوں عالم سے سوائے مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


بے خبر ہوں دونوں عالم سے سوائے مصطفیٰؐ

یا الٰہی! دل ہو ایسا مبتلائے مصطفیٰﷺ

ذرّے اس در کے ہیں کیا سیارے کیا شمس و قمر

جلوہ آراء شش جہت میں ہے ضیائے مصطفیٰﷺ

شافعِ محشر ملا ہے کس پیمبر کو خطاب

کون محبوبِ الٰہی ہے سوائے مصطفیٰﷺ