غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے
خزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے
نکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے
ہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے
کسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک
برائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے
غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے
خزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے
نکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے
ہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے
کسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک
برائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے
ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے
بلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنے
شرمائے اشک خوں سے گل تر بہار میں
رنگ چمن اڑا مرے داماں کے سامنے
گر خط سبز لب پہ ترے خضر دیکھ پائے
پھر منہ کرے نہ چشمۂ حیواں کے سامنے
شب فراق میں رویا کیا سحر کے لیے
ترس ترس گئیں آہیں مِری اثر کے لیے
الٰہی خیر سے اس کی خبر ملے مجھ کو
چُھری ہے تیز وہاں مرغ نامہ بر کے لیے
بجا ہے بوسے کا گر نیل بن گیا رُخ پر
یہی تو داغ مناسب تھا اس قمر کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے خبر ہوں دونوں عالم سے سوائے مصطفیٰؐ
یا الٰہی! دل ہو ایسا مبتلائے مصطفیٰﷺ
ذرّے اس در کے ہیں کیا سیارے کیا شمس و قمر
جلوہ آراء شش جہت میں ہے ضیائے مصطفیٰﷺ
شافعِ محشر ملا ہے کس پیمبر کو خطاب
کون محبوبِ الٰہی ہے سوائے مصطفیٰﷺ