نہ جیت وِیت کے معنی نہ ہار وار کا دکھ
کہ میرے دل میں روندی گئی بہار کا دکھ
نہ بات وَات ضروری ، نہ دِید وِید کی بات
جو دِل اداس ہے اِس کو ہے انتظار کا دکھ
دغا وَغا کوبھی چھوڑا ، یہ جھوٹ موٹ بھی معاف
مجھے تو دے رہا آزار اعتبار کا دکھ
نہ جیت وِیت کے معنی نہ ہار وار کا دکھ
کہ میرے دل میں روندی گئی بہار کا دکھ
نہ بات وَات ضروری ، نہ دِید وِید کی بات
جو دِل اداس ہے اِس کو ہے انتظار کا دکھ
دغا وَغا کوبھی چھوڑا ، یہ جھوٹ موٹ بھی معاف
مجھے تو دے رہا آزار اعتبار کا دکھ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر بار تِرے ذکر پہ کیونکر نہیں برسے
قرنوں سے ہیں جو نین تِری دید کو ترسے
تُو قادر مُطلق ہے عطا تیری سخن بھی
لازم ہے تِرے نام پہ ہوں چشم بھی تر سے
تُو آن بسا دل میں تو دل پاک ہوا ہے
ہیبت سے، ہر اک خوف سے، ہر ڈر سے، ضرر سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ٹوٹا جمود، ان سے ملاقات ہو گئی
لب چپ رہے پر آنکھ سے برسات ہو گئی
تیرا کرم کہ آج تو خاموش رہ کہ بھی
حمد، نعت اور تجھ سے مناجات ہو گئی
لب پر درودﷺ، دل میں خداوند تیرا نام
صد شکر، ساتھ حمد کے اب نعت ہو گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دعائے نیم شب
ندا تمہاری
کہ کیا کوئی ہے
جو نیم شب کو
جبین اپنی زمیں پہ رکھ کر
تمہاری عظمت کے گیت گائے
تمہیں پکارے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں اگر کر رہا، آج کچھ بھی کلام
آپﷺ ہی کی عطا، آپ ہی کا انعام
دست بست کھڑا، دَر پہ اَدنیٰ غلام
اپنے دستِ مبارک سے لیں مجھ کو تھام
اس سے بڑھ کر خوشی، اور کوئی نہیں
پہلے آقاﷺ مصافحہ کریں، پھر کلام
میں مشکل میں تھا
میں نے ہر در پہ دستک دی
سب کو پکارا
پکارا میں صد بار مجھ کو بچا لو
مجھے دو سہارا
مجھے دکھ رہا تھا