زمیں کے لب ہیں سِلے اور آسماں خاموش
تماشا دیکھتا رہتا ہے یہ جہاں خاموش
جو نُکتہ چینی سدا کرتا تھا مخالف پر
ہوئی ہے آج اسی شخص کی زباں خاموش
اُداسیوں میں گِھری جب سے ماں کو پایا ہے
تبھی سے رہنے لگے ہیں دل اور جاں خاموش
چمن سے گُزرا ہے پھولوں کو روند کر ظالم
سِتم تو یہ ہے کہ خود بھی ہے باغباں خاموش
فسادِ عشق نہیں ہے تو اور کیا ہے یہ
خموش میں ہوں یہاں اور تم وہاں خاموش
یہ کس کے عشق میں احمد جُھلس رہا ہے تُو
جو تیرے سینے سے اُٹھتا ہے یوں دُھواں خاموش
احمد ارسلان کشتواڑی
No comments:
Post a Comment