صحن گُلشن میں چاندنی دیکھیں
حُسن تکمیل زندگی دیکھیں
آؤ فطرت کی دیکھیں رعنائی
پتیاں کچھ ہری ہری دیکھیں
میرا ہر شعر ہے نشان حیات
میرا انداز شاعری دیکھیں
صرف تیرے ہی ہم پُجاری ہیں
دل میں تیری ہی مُورتی دیکھیں
چشم باطن کُھلے تو بات بنے
عرش کے راز ہر گھڑی دیکھیں
میری نظروں میں ایک سا ہے سماں
کمتری اور نہ برتری دیکھیں
مست و بیخود سا ہے بجاج کوئی
اس کا انداز زندگی دیکھیں
اوم پرکاش بجاج
No comments:
Post a Comment