یہ وہم ہے کہ کسی وہم کا پتا بھی ہو
جو تُو بھی ساتھ رہے اور مِرا خُدا بھی ہو
سفر کا شوق ہے تجھ کو تو پھر یہ شرط ہے کیوں
رِدائے ابر ہو، سبزہ ہو، اور ہوا بھی ہو
کچھ اس طرح سے گُزر جا جنوں کی منزل سے
کہ ہوش بھی نہ ہو گُم اور کچھ نشہ بھی ہو
سمجھ سکو تو سمجھ لو کہ یہ ضروری نہیں
جو لفظ دل میں ہو آنکھوں میں تیرتا بھی ہو
اب اس طرح سے خطِ ربط کھینچ کر دیکھیں
اگر جُدائی ہو، مِلنے کا آسرا بھی ہو
ایزد عزیز
No comments:
Post a Comment