Tuesday, 28 July 2026

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

 

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا

پر دل کی بستیوں میں دیکھا مقام تیرا

موقوف کب ہے جن و انس و ملائکہ پر

طائر بھی نام لیتے ہیں صبح و شام تیرا

تخصیص نعمتوں میں ابرار کی نہیں کچھ

اشرار پر بھی ہر دم ہے لطف عام تیرا

حد ہو گئی کہ تیرے محبوب کی زباں سے

ہم خاکیوں کو پہنچا یا رب! پیام تیرا

تُو پردہ‌ دارِ شب ہے تُو خالقِ سحر ہے

خُورشیدِ چرخ کیا ہے ادنیٰ غلام تیرا

سب کچھ مِٹا چکی ہوں اس آرزو پہ یا رب

ہو جائے لوحِ دل پر منقوش نام تیرا


انیسہ ہارون شروانیہ

No comments:

Post a Comment