رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں
آتا ہوں میرے یار ابھی راستے میں ہوں
اس نے بلایا ہی نہیں پر اپنے آپ سے
کہتا ہوں بار بار ابھی راستے میں ہوں
یہ بات سنتے سنتے مِرے کان پک گئے
تھوڑا سا انتظار ابھی راستے میں ہوں
تم زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گئے
میرا کہاں شمار ابھی راستے میں ہوں
میرے قریب آنے سے پہلے یہ سوچ لو
کیا میرا اعتبار ابھی راستے میں ہوں
میں تھک گیا ہوں پاس ہے خوابوں کی پوٹلی
اٹھتا نہیں یہ بار ابھی راستے میں ہوں
مشتاق بخاری
No comments:
Post a Comment