Friday, 24 July 2026

رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں

 رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں

آتا ہوں میرے یار ابھی راستے میں ہوں

اس نے بلایا ہی نہیں پر اپنے آپ سے

کہتا ہوں بار بار ابھی راستے میں ہوں

یہ بات سنتے سنتے مِرے کان پک گئے

تھوڑا سا انتظار ابھی راستے میں ہوں

تم زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گئے

میرا کہاں شمار ابھی راستے میں ہوں

میرے قریب آنے سے پہلے یہ سوچ لو

کیا میرا اعتبار ابھی راستے میں ہوں

میں تھک گیا ہوں پاس ہے خوابوں کی پوٹلی

اٹھتا نہیں یہ بار ابھی راستے میں ہوں


مشتاق بخاری

No comments:

Post a Comment