Thursday, 23 July 2026

آنسو ہیں اور دیدۂ خونبار دوستو

 آنسُو ہیں اور دیدۂ خُونبار دوستو

دامن ہے اور اشک گُہربار دوستو

آنکھوں میں چُبھ رہی ہے غمِ زندگی کی دُھوپ

بیٹھے ہیں زیرِ سایۂ دیوار دوستو

اب دل ہے اور ماتمِ صد شہرِ آرزو

اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو

بے نُور ہو چکا ہے چراغِ حریمِ ناز

وِیراں ہے طاقِ ابروئے خمدار دوستو

دُھندلا گئی ہے مشعلِ عرفان و آگہی

کجلا گیا ہے شعلۂ افکار دوستو

شاید کہ زندگی کا سفر ختم ہو گیا

رُکنے لگی ہے سانس کی تلوار دوستو

اب رائیگاں ہے غمزۂ محبوبۂ بہار

اب ہم ہیں اور نرگسِ بیمار دوستو


منزہ انور گوئندی

No comments:

Post a Comment