ہجومِ دلبراں ہے میں نہیں ہوں
یہاں سارا جہاں ہے میں نہیں ہوں
جسے سُن کر زمانہ جُھومتا ہے
وہ میری داستاں ہے میں نہیں ہوں
نہاں کیا، حرفِ کُن کے بھید میں ہے
خدا ہی رازداں ہے میں نہیں ہوں
کسی کا ہجر مجھ کو کھا چکا ہے
محض میرا گماں ہے میں نہیں ہوں
کروں گا چاک پردہ سازشوں کا
زمانہ بے زباں ہے میں نہیں ہوں
ہے کوئی عکس رقصاں آئینے میں
کوئی جذبہ جواں ہے میں نہیں ہوں
جو تم پر عارفی سایہ فگن ہے
وہ نیلا آسماں ہے میں نہیں ہوں
اسلم عارفی
No comments:
Post a Comment