ان مست انکھڑیوں کے اشارے نہیں رہے
وہ پیارے پیارے اب تو نظارے نہیں رہے
ہم ان کے ہو گئے، وہ ہمارے نہیں رہے
وہ پیارے پیارے ان کے اشارے نہیں رہے
یہ خوب ہے نصیب کہ وہ غیر کے ہوئے
تھا جن پہ ناز اب وہ ہمارے نہیں رہے
فُرقت کی شب کچھ اور بھی تاریک ہو گئی
وہ جھلملاتے صبح کے تارے نہیں رہے
اپنی حیات موت سے تبدیل ہو گئی
ٹُوٹے ہوئے دلوں کے سہارے نہیں رہے
ان کی گلی میں آ کے کوئی دیتا ہے صدا
اب تو کہیں بھی عشق کے مارے نہیں رہے
ہم بھی نہ اس جہان میں نشتر رہیں گے اب
احباب جس طرح سے ہمارے نہیں رہے
نشتر قائم گنجوی
محمد حنیف خاں نشتر
No comments:
Post a Comment