چین دل کو نہ آئے گا کب تک
وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک
اے ستمگر! تِرے ستم آخر
کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک
ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو
آسماں تو ستائے گا کب تک
وہ رہے گا خفا اگر یوں ہی
کوئی آخر منائے گا کب تک
ہجر کا میرے ہمنشیں کوئی
ان کو قصہ سنائے گا کب تک
چھا چکی ہیں گھٹائیں اب ہر سُو
ساقیا! مے پلائے گا کب تک
شعلۂ🔥عشق کیا خبر پیکاں
میرے دل کو جلائے گا کب تک
پیکاں چاندپوری
No comments:
Post a Comment