Friday, 3 July 2026

چین دل کو نہ آئے گا کب تک

 چین دل کو نہ آئے گا کب تک

وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک

اے ستمگر! تِرے ستم آخر

کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک

ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو

آسماں تو ستائے گا کب تک

وہ رہے گا خفا اگر یوں ہی

کوئی آخر منائے گا کب تک

ہجر کا میرے ہمنشیں کوئی

ان کو قصہ سنائے گا کب تک

چھا چکی ہیں گھٹائیں اب ہر سُو

ساقیا! مے پلائے گا کب تک

شعلۂ🔥عشق کیا خبر پیکاں

میرے دل کو جلائے گا کب تک


پیکاں چاندپوری

No comments:

Post a Comment