بزم سنواروں غزلیں گاؤں
جینے کے انداز بناؤں
ہر دم رو رو خون کے آنسو
کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں
کب تک دل کے بہکانے پر
تارے گن گن رات بتاؤں
بزم سنواروں غزلیں گاؤں
جینے کے انداز بناؤں
ہر دم رو رو خون کے آنسو
کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں
کب تک دل کے بہکانے پر
تارے گن گن رات بتاؤں
ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد
لوگوں نے کِیا چاند کے صحراؤں کو آباد
ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں
خسرو ہے نہ شیریں نہ تیشہ ہے نہ فرہاد
برسوں سے یہ خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ
گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد
اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے
صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے
مجنوں پہ نہ کر رشک، کہ جو اہلِ وفا ہیں
مر جاتے ہیں معشوق کو رسوا نہیں کرتے
ٹک دیکھ لیا آنکھوں ہی آنکھوں میں، ہنسے بھی
پر یوں تو علاجِ دلِ شیدا نہیں کرتے
درد وہ لاحق ہوا جس کی دوا کوئی نہیں
میں جنم ہی سے اکیلا ہوں مِرا کوئی نہیں
اس کا رستہ دیکھتا ہوں میں کہ جو ہے ہی نہیں
گھر وہ ڈھونڈا ہے کہ جس کا راستہ کوئی نہیں
حوصلہ دیکھو کہ پھر بھی جی رہا ہوں شوق سے
ایسی بستی میں کہ جس میں آشنا کوئی نہیں
میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو
اس نے بھی تو پورا نہ کیا میری کمی کو
ہے موجزن اک قلزمِ خوں سینے میں اب تک
درکار نہیں اور مِری تشنہ لبی کو
ہنستے انہیں دیکھا تو بہٹ پھُوٹ کے روئے
جو لوگ ترستے رہے اک عمر ہنسی کو
ہر چند سہارا ہے تِرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو
وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی لے اڑا نیندیں
وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی، کھا گیا دل کو
یا سانس کا لینا بھی گزر جانا ہے جی سے
یا معرکۂ عشق بھی اک کھیل تھا دل کو
ہم پی گئے سب، ہلے نہ لب تک
جی ہار گئے، نجومِ شب تک
ہر چند گھٹائیں چَھٹ گئی ہیں
پر دل پہ غبار سا ہے اب تک
خوش ہو نہ زمانہ! میرے غم پر
آئے گا یہ دورِ جام سب تک
کوٹھے اجاڑ، کھڑکیاں چپ، راستے اداس
جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس
دو پَل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا
تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس
اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو اُنس
لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ سکی نہ راس
بت بنے راہ تکو گے کب تک
آس کی آنچ سہو گے کب تک
سر اٹھا کر کبھی دیکھو تو سہی
دل کی دنیا میں بسو گے کب تک
جس نے اپنی بھی خبر لی نہ کبھی
تم اسے یاد کرو گے کب تک
وہ پاس آئے، آس بنے، اور پلٹ گئے
کتنے ہی پردے آنکھوں کے آگے سے ہٹ گئے
ہر باغ میں بہار ہوئی خیمہ زن، مگر
دامن کے ساتھ ساتھ یہاں دل بھی پھٹ گئے
گمراہیوں کا لپکا کچھ ایسا پڑا کہ ہم
منزل قریب آئی تو رہبر سے کٹ گئے
آویزشیں بڑھتی ہی گئیں قلب و نظر میں
کیا کچھ ہے ابھی دیکھئے تقدیرِ بشر میں
چڑھتے ہوئے سورج نے میرے داغِ جگر پر
قربان کیا جو بھی تھا دامانِ سحر میں
میدان کا جیتا ہوا تنہائی میں ہارا
کیا جانئے، کیا سحر تھا کافر کی نظر میں