Showing posts with label شہرت بخاری. Show all posts
Showing posts with label شہرت بخاری. Show all posts

Thursday, 7 April 2022

بزم سنواروں غزلیں گاؤں

 بزم سنواروں غزلیں گاؤں

جینے کے انداز بناؤں

ہر دم رو رو خون کے آنسو

کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں

کب تک دل کے بہکانے پر

تارے گن گن رات بتاؤں

Saturday, 10 December 2016

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

 ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

لوگوں نے کِیا چاند کے صحراؤں کو آباد

ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں

خسرو ہے نہ شیریں نہ تیشہ ہے نہ فرہاد

برسوں سے یہ خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ

گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے

 اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے 

صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے

مجنوں پہ نہ کر رشک، کہ جو اہلِ وفا ہیں

مر جاتے ہیں معشوق کو رسوا نہیں کرتے

ٹک دیکھ لیا آنکھوں ہی آنکھوں میں، ہنسے بھی

پر یوں تو علاجِ دلِ شیدا نہیں کرتے

Tuesday, 20 October 2015

درد وہ لاحق ہوا جس کی دوا کوئی نہیں

 درد وہ لاحق ہوا جس کی دوا کوئی نہیں

میں جنم ہی سے اکیلا ہوں مِرا کوئی نہیں

اس کا رستہ دیکھتا ہوں میں کہ جو ہے ہی نہیں

گھر وہ ڈھونڈا ہے کہ جس کا راستہ کوئی نہیں

حوصلہ دیکھو کہ پھر بھی جی رہا ہوں شوق سے

ایسی بستی میں کہ جس میں آشنا کوئی نہیں

میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو

 میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو

اس نے بھی تو پورا نہ کیا میری کمی کو

ہے موجزن اک قلزمِ خوں سینے میں اب تک

درکار نہیں اور مِری تشنہ لبی کو

ہنستے انہیں دیکھا تو بہٹ پھُوٹ کے روئے

جو لوگ ترستے رہے اک عمر ہنسی کو

Wednesday, 14 May 2014

ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو

 ہر چند سہارا ہے تِرے پیار کا دل کو

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو

وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی لے اڑا نیندیں

وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی، کھا گیا دل کو

یا سانس کا لینا بھی گزر جانا ہے جی سے

یا معرکۂ عشق بھی اک کھیل تھا دل کو

ہم پی گئے سب ہلے نہ لب تک

 ہم پی گئے سب، ہلے نہ لب تک

جی ہار گئے، نجومِ شب تک

ہر چند گھٹائیں چَھٹ گئی ہیں

پر دل پہ غبار سا ہے اب تک

خوش ہو نہ زمانہ! میرے غم پر

آئے گا یہ دورِ جام سب تک

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس

 کوٹھے اجاڑ، کھڑکیاں چپ، راستے اداس

جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس

دو پَل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا

تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس

اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو اُنس

لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ سکی نہ راس

Tuesday, 13 May 2014

بت بنے راہ تکو گے کب تک

 بت بنے راہ تکو گے کب تک

آس کی آنچ سہو گے کب تک

سر اٹھا کر کبھی دیکھو تو سہی

دل کی دنیا میں بسو گے کب تک

جس نے اپنی بھی خبر لی نہ کبھی

تم اسے یاد کرو گے کب تک

وہ پاس آئے آس بنے اور پلٹ گئے

 وہ پاس آئے، آس بنے، اور پلٹ گئے

کتنے ہی پردے آنکھوں کے آگے سے ہٹ گئے

ہر باغ میں بہار ہوئی خیمہ زن، مگر

دامن کے ساتھ ساتھ یہاں دل بھی پھٹ گئے

گمراہیوں کا لپکا کچھ ایسا پڑا کہ ہم

منزل قریب آئی تو رہبر سے کٹ گئے

آویزشیں بڑھتی ہی گئیں قلب و نظر میں

 آویزشیں بڑھتی ہی گئیں قلب و نظر میں

کیا کچھ ہے ابھی دیکھئے تقدیرِ بشر میں

چڑھتے ہوئے سورج نے میرے داغِ جگر پر

قربان کیا جو بھی تھا دامانِ سحر میں

میدان کا جیتا ہوا تنہائی میں ہارا

کیا جانئے، کیا سحر تھا کافر کی نظر میں