دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے
جوہر ہیں غم کے غم کے ترازو میں تولیے
شامِ غمِ فراق کے پہلو میں بیٹھ کر
آئی کسی کی یاد تو چپکے سے رو لیے
موندی گئیں جو آنکھیں تو آئے وہ دیکھنے
آ کر بھی کہہ نہ پائے کہ آنکھیں تو کھولیے
قیس صحرا نشیں سے لے آؤ
عشق مجھ سا کہیں سے لے آؤ
چاند کہتا تھا آسمانوں پر
نُور میرا زمیں سے لے آؤ
ان کے نازک لبوں کو چھُو جائے
ایسا جھونکا کہیں سے لے آؤ
ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے
اے غمِ یار! شام ڈھلنے دے
عمر تھوڑی ہے پیاس صدیوں کی
شبنمی رُت! سکوں سے مرنے دے
اس نے مانگا ہے مجھ سے اک تحفہ
ہو جو ممکن تو ابر برسا دے