Showing posts with label اویس الحسن. Show all posts
Showing posts with label اویس الحسن. Show all posts

Saturday, 4 July 2026

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا

 دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا

وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا

اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی

اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا

اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں

جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا

Sunday, 16 February 2025

پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے

 پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے 

جوہر ہیں غم کے غم کے ترازو میں تولیے

شامِ غمِ فراق کے پہلو میں بیٹھ کر

آئی کسی کی یاد تو چپکے سے رو لیے

موندی گئیں جو آنکھیں تو آئے وہ دیکھنے

آ کر بھی کہہ نہ پائے کہ آنکھیں تو کھولیے

Monday, 23 September 2024

قیس صحرا نشیں سے لے آؤ

 قیس صحرا نشیں سے لے آؤ

عشق مجھ سا کہیں سے لے آؤ

چاند کہتا تھا آسمانوں پر

نُور میرا زمیں سے لے آؤ

ان کے نازک لبوں کو چھُو جائے

ایسا جھونکا کہیں سے لے آؤ

Sunday, 22 September 2024

ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے

  ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے

اے غمِ یار! شام ڈھلنے دے

عمر تھوڑی ہے پیاس صدیوں کی

شبنمی رُت! سکوں سے مرنے دے 

اس نے مانگا ہے مجھ سے اک تحفہ

 ہو جو ممکن تو ابر برسا دے