Showing posts with label ثمینہ اسلم. Show all posts
Showing posts with label ثمینہ اسلم. Show all posts

Sunday, 30 May 2021

تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا

 تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا

یاد رکھنا ہمیں آتا ہے بغاوت کرنا

دونوں میدانوں میں اپنا نہیں ثانی کوئی

ہم سے تم سوچ کے نفرت یا محبت کرنا

خود سکھائے تھے جسے ہم نے آداب اُلفت

اب یہ لازم ہے کھلے اس پہ عداوت کرنا

Saturday, 29 May 2021

رنگ نکھرتے پھول بکھرتے جائیں گے

 رنگ نکھرتے، پھول بکھرتے جائیں گے

جانے والے اک دن لوٹ کے آئیں گے

جھوٹی سچی باتیں ان کی مت سننا

پیار کے دشمن لوگ تمہیں بہکائیں گے

تیرے بعد جدائیاں کیسے کاٹی ہیں؟

اک اک لمحہ، اک اک پل دہرائیں گے

Friday, 28 May 2021

ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں

 ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں

تمہیں سوچا شرمائے بہت ہیں

جسے پھولوں کے تحفے ہم نے بهیجے

اسی نے سنگ برسائے بہت ہیں

جو سچ پوچھو تو اب کے یوں ہوا ہے

تیرے غم سے بھی اکتائے بہت ہیں

Thursday, 27 May 2021

اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا

 اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا؟

میں مانگوں قاتلوں سے خوں بہا کیا

تمہیں پچھتاوے کا ہے روگ کافی

تمہیں دے کر کروں میں بد دعا کیا

مجھے یوں کرکے موجوں کے حوالے

سکوں سے سو سکے گا ناخدا کیا

بچپن کے دکھ کتنے اچھے ہوتے تھے

 بچپن کے دُکھ کتنے اچھے ہوتے تھے

تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے

وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں

تتلی کے پر نوچ کے ناچا کرتے تھے

پاؤں مار کے خود بارش کے پانی میں

اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے