تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا
یاد رکھنا ہمیں آتا ہے بغاوت کرنا
دونوں میدانوں میں اپنا نہیں ثانی کوئی
ہم سے تم سوچ کے نفرت یا محبت کرنا
خود سکھائے تھے جسے ہم نے آداب اُلفت
اب یہ لازم ہے کھلے اس پہ عداوت کرنا
تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا
یاد رکھنا ہمیں آتا ہے بغاوت کرنا
دونوں میدانوں میں اپنا نہیں ثانی کوئی
ہم سے تم سوچ کے نفرت یا محبت کرنا
خود سکھائے تھے جسے ہم نے آداب اُلفت
اب یہ لازم ہے کھلے اس پہ عداوت کرنا
رنگ نکھرتے، پھول بکھرتے جائیں گے
جانے والے اک دن لوٹ کے آئیں گے
جھوٹی سچی باتیں ان کی مت سننا
پیار کے دشمن لوگ تمہیں بہکائیں گے
تیرے بعد جدائیاں کیسے کاٹی ہیں؟
اک اک لمحہ، اک اک پل دہرائیں گے
ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں
تمہیں سوچا شرمائے بہت ہیں
جسے پھولوں کے تحفے ہم نے بهیجے
اسی نے سنگ برسائے بہت ہیں
جو سچ پوچھو تو اب کے یوں ہوا ہے
تیرے غم سے بھی اکتائے بہت ہیں
اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا؟
میں مانگوں قاتلوں سے خوں بہا کیا
تمہیں پچھتاوے کا ہے روگ کافی
تمہیں دے کر کروں میں بد دعا کیا
مجھے یوں کرکے موجوں کے حوالے
سکوں سے سو سکے گا ناخدا کیا
بچپن کے دُکھ کتنے اچھے ہوتے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر نوچ کے ناچا کرتے تھے
پاؤں مار کے خود بارش کے پانی میں
اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے