Showing posts with label راکیش راہی. Show all posts
Showing posts with label راکیش راہی. Show all posts

Friday, 16 February 2024

جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں

 جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں

وہ اندھ کار سے رنگوں کے خواب مانگتے ہیں

لہو پلاتے ہیں جو لوگ ہم کو جیون بھر

وہ شام ہوتے ہی کیوں کر شراب مانگتے ہیں

انہیں خبر ہی نہیں ہے خود اپنے ہونے کی

جو ہر سوال سے پہلے جواب مانگتے ہیں

Tuesday, 13 February 2024

دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے

 دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے

ہنسنا پڑتا ہے یہاں سب کو دکھانے کے لیے

کب سے بیٹھے ہیں مری آنکھ کی انگنائی میں

خواب بچوں کی طرح شور مچانے کے لیے

اپنے دیدار کا شربت تو پلا دے ہم کو

ہم تو آئے ہیں ترے شہر سے جانے کے لیے

Sunday, 1 May 2022

ستم سہتے ہوئے ہر دن نئی خواہش سے ڈرتا ہوں

 ستم سہتے ہوئے ہر دن نئی خواہش سے ڈرتا ہوں

مِری آنکھوں میں غم ہے اور میں بارش سے ڈرتا ہوں

مِری پاکیزگی نے ہی بنایا ہے مجھے منصف

سو میں انصاف کرتے وقت ہر لغزش سے ڈرتا ہوں

دلوں کی وسعتوں کو بانٹ ہی سکتی نہیں دنیا

میں قسطوں میں بنٹا ہوں اور پیمائش سے ڈرتا ہوں

Monday, 7 March 2022

بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا

بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا

اپنی ہی ذات کا نقصان کیا جائے گا

آپ نے فکر کی بھرپور حمایت کی ہے

آپ کو صاحبِ ایمان کیا جائے گا

آپ کیوں سچ کے تحفظ میں کھڑے ہیں اب تک

آپ کو روز پریشاں کیا جائے گا

Friday, 30 April 2021

بے قراری قرار ہے مجھ کو

 بے قراری، قرار ہے مجھ کو

دل کے زخموں سے پیار ہے مجھ کو

موت تو کہہ رہی ہے جیون سے

اک تِرا انتظار ہے مجھ کو

منزلیں آپ کو مبارک ہوں

راستوں کا غبار ہے مجھ کو