جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں
وہ اندھ کار سے رنگوں کے خواب مانگتے ہیں
لہو پلاتے ہیں جو لوگ ہم کو جیون بھر
وہ شام ہوتے ہی کیوں کر شراب مانگتے ہیں
انہیں خبر ہی نہیں ہے خود اپنے ہونے کی
جو ہر سوال سے پہلے جواب مانگتے ہیں
جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں
وہ اندھ کار سے رنگوں کے خواب مانگتے ہیں
لہو پلاتے ہیں جو لوگ ہم کو جیون بھر
وہ شام ہوتے ہی کیوں کر شراب مانگتے ہیں
انہیں خبر ہی نہیں ہے خود اپنے ہونے کی
جو ہر سوال سے پہلے جواب مانگتے ہیں
دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے
ہنسنا پڑتا ہے یہاں سب کو دکھانے کے لیے
کب سے بیٹھے ہیں مری آنکھ کی انگنائی میں
خواب بچوں کی طرح شور مچانے کے لیے
اپنے دیدار کا شربت تو پلا دے ہم کو
ہم تو آئے ہیں ترے شہر سے جانے کے لیے
ستم سہتے ہوئے ہر دن نئی خواہش سے ڈرتا ہوں
مِری آنکھوں میں غم ہے اور میں بارش سے ڈرتا ہوں
مِری پاکیزگی نے ہی بنایا ہے مجھے منصف
سو میں انصاف کرتے وقت ہر لغزش سے ڈرتا ہوں
دلوں کی وسعتوں کو بانٹ ہی سکتی نہیں دنیا
میں قسطوں میں بنٹا ہوں اور پیمائش سے ڈرتا ہوں
بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا
اپنی ہی ذات کا نقصان کیا جائے گا
آپ نے فکر کی بھرپور حمایت کی ہے
آپ کو صاحبِ ایمان کیا جائے گا
آپ کیوں سچ کے تحفظ میں کھڑے ہیں اب تک
آپ کو روز پریشاں کیا جائے گا
بے قراری، قرار ہے مجھ کو
دل کے زخموں سے پیار ہے مجھ کو
موت تو کہہ رہی ہے جیون سے
اک تِرا انتظار ہے مجھ کو
منزلیں آپ کو مبارک ہوں
راستوں کا غبار ہے مجھ کو