Showing posts with label احسان الحق. Show all posts
Showing posts with label احسان الحق. Show all posts

Thursday, 17 November 2022

کروٹ کروٹ سوچ کا ہالہ

 کروٹ کروٹ سوچ کا ہالہ

رات ہو جیسے یاد کا جالا

جس کی کنجی تیری آنکھیں

اپنا دل ہے ایسا تالا

اک لمحہ پانے کا ارماں

صدیوں میرے دل نے پالا

Wednesday, 16 November 2022

تیری یاد نے تھام لیا تھا

 تیری یاد نے تھام لیا تھا

ورنہ ہجر کا وار عجب تھا

تجھ بِن کیسے دن آئے ہیں

ہم نے ایسا کب سوچا تھا

تیرے پیار کے رتھ پر اڑتا

تاروں سے آگے پچھلی شب تھا

Friday, 11 November 2022

تو ہی آ کے بتا دے آخر ایسا کیوں ہوتا ہے

 آخر ایسا کیوں ہوتا ہے


جان

اک تیرے جانے سے

میں اس خالی سینما ہال سا ہو جاتا ہوں

جو سرِ شام تو لوگوں سے بھرا ہوتا ہے

مگر فلم کے ختم ہوتے ہی

Tuesday, 25 October 2022

بے اعتباری کے کالے موسم میں

 بے اعتباری کا موسم


تا حد نگاہ پھیلے

یاس کے صحرا میں

ایک نیم مردہ آس بھٹکتی پھرتی ہے

اس ایک دل کے کھوج میں

جس میں اس نے جنم لیا تھا

Monday, 24 October 2022

تمہارے دھیان کے حجرے میں خامشی نماز نیتے کھڑی ہے

 تیرے دھیان کے ہجرے میں


فضا

تمہاری یادوں سے با وضو ہے

ہواؤں میں تمہارے پیار کا نور

اذان کی طرح تحلیل ہو چکا ہے

رات کے مصلے پر

Saturday, 22 October 2022

اس بات سے حیرانی بھی حیران ہوئی ہے

 اس بات سے حیرانی بھی حیران ہوئی ہے

وحشت مِری پہچان کا سامان ہوئی ہے

اِک قبر میسّر ہے قیامت کی گھڑی تک

سو نیند کی مشکل مجھے آسان ہوئی ہے

اک روز جہنم بھی شعاعوں کی تپش میں

سورج کی تمازت سے پریشان ہوئی ہے

Friday, 21 October 2022

پیچھے نہ کہیں میرے کہ تنگ آ کے مرا تھا

 پیچھے نہ کہیں میرے، کہ تنگ آ کے مَرا تھا

کہتے ہیں مِرا باپ بھی کچھ کھا کے مَرا تھا

تلوار کوئی سر سے بہت دور تھی اس کے

وہ مرنے کے ہی خوف سے گھبرا کے مرا تھا

سب پیار سے رہنا،۔ نہ کہ دیوار اٹھانا

بوڑھا سبھی بچوں کو یہ سمجھا کے مرا تھا

Sunday, 3 October 2021

مناتے جشن ہو تم زندگی کا

 مناتے جشن ہو تم زندگی کا

کبھی سوچا ٹھکانے آخری کا

مِرے دل کو اذیت مت دیا کر

مِرا دل راستہ ہے روشنی کا

بُرا کہنے لگے ہو دھاندلی کو

ارادہ تو نہیں ہے دھاندلی کا