کروٹ کروٹ سوچ کا ہالہ
رات ہو جیسے یاد کا جالا
جس کی کنجی تیری آنکھیں
اپنا دل ہے ایسا تالا
اک لمحہ پانے کا ارماں
صدیوں میرے دل نے پالا
کروٹ کروٹ سوچ کا ہالہ
رات ہو جیسے یاد کا جالا
جس کی کنجی تیری آنکھیں
اپنا دل ہے ایسا تالا
اک لمحہ پانے کا ارماں
صدیوں میرے دل نے پالا
تیری یاد نے تھام لیا تھا
ورنہ ہجر کا وار عجب تھا
تجھ بِن کیسے دن آئے ہیں
ہم نے ایسا کب سوچا تھا
تیرے پیار کے رتھ پر اڑتا
تاروں سے آگے پچھلی شب تھا
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے
جان
اک تیرے جانے سے
میں اس خالی سینما ہال سا ہو جاتا ہوں
جو سرِ شام تو لوگوں سے بھرا ہوتا ہے
مگر فلم کے ختم ہوتے ہی
بے اعتباری کا موسم
تا حد نگاہ پھیلے
یاس کے صحرا میں
ایک نیم مردہ آس بھٹکتی پھرتی ہے
اس ایک دل کے کھوج میں
جس میں اس نے جنم لیا تھا
تیرے دھیان کے ہجرے میں
فضا
تمہاری یادوں سے با وضو ہے
ہواؤں میں تمہارے پیار کا نور
اذان کی طرح تحلیل ہو چکا ہے
رات کے مصلے پر
اس بات سے حیرانی بھی حیران ہوئی ہے
وحشت مِری پہچان کا سامان ہوئی ہے
اِک قبر میسّر ہے قیامت کی گھڑی تک
سو نیند کی مشکل مجھے آسان ہوئی ہے
اک روز جہنم بھی شعاعوں کی تپش میں
سورج کی تمازت سے پریشان ہوئی ہے
پیچھے نہ کہیں میرے، کہ تنگ آ کے مَرا تھا
کہتے ہیں مِرا باپ بھی کچھ کھا کے مَرا تھا
تلوار کوئی سر سے بہت دور تھی اس کے
وہ مرنے کے ہی خوف سے گھبرا کے مرا تھا
سب پیار سے رہنا،۔ نہ کہ دیوار اٹھانا
بوڑھا سبھی بچوں کو یہ سمجھا کے مرا تھا
مناتے جشن ہو تم زندگی کا
کبھی سوچا ٹھکانے آخری کا
مِرے دل کو اذیت مت دیا کر
مِرا دل راستہ ہے روشنی کا
بُرا کہنے لگے ہو دھاندلی کو
ارادہ تو نہیں ہے دھاندلی کا