Thursday, 29 October 2026

بات بڑھتی ہے تو شمشیر نکل آتی ہے

 خاک سے خاک کی تصویر نکل آتی ہے

پاؤں ہٹتا ہے تو تقدیر نکل آتی ہے

کچھ زباں سے تو کہا جاتا نہیں ہے دن میں

رات تک آپ کی تحریر نکل آتی ہے

بات پر بات نکلتی ہے کوئی حل تو نہیں

بات بڑھتی ہے تو شمشیر نکل آتی ہے

درد ماں باپ کا سب بانٹنے آتے ہیں مگر

درد کے نام پہ جاگیر نکل آتی ہے

گر پہنچنا ہو کہیں جلد تو دروازے سے

مجھ سے پہلے مِری تاخیر نکل آتی ہے

حِدتِ جسم سے گل جاتا ہے یہ حلقہ اسیر

اور پھر پاؤں کی زنجیر نکل آتی ہے


علی رضا اسیر

No comments:

Post a Comment