خاک سے خاک کی تصویر نکل آتی ہے
پاؤں ہٹتا ہے تو تقدیر نکل آتی ہے
کچھ زباں سے تو کہا جاتا نہیں ہے دن میں
رات تک آپ کی تحریر نکل آتی ہے
بات پر بات نکلتی ہے کوئی حل تو نہیں
بات بڑھتی ہے تو شمشیر نکل آتی ہے
درد ماں باپ کا سب بانٹنے آتے ہیں مگر
درد کے نام پہ جاگیر نکل آتی ہے
گر پہنچنا ہو کہیں جلد تو دروازے سے
مجھ سے پہلے مِری تاخیر نکل آتی ہے
حِدتِ جسم سے گل جاتا ہے یہ حلقہ اسیر
اور پھر پاؤں کی زنجیر نکل آتی ہے
علی رضا اسیر
No comments:
Post a Comment