دیواروں کا گریہ ہو یا ویرانی کی دھار گرے
سارے غم جی اٹھتے ہیں جب بارش کی جھنکار گرے
پتوں کا گرنا ہے ایسے موسم کی بربادی پر
جیسے میرے ہمسائے میں روز کوئی دیوار گرے
پانی پانی ہو جاتے ہیں آنکھوں میں سارے منظر
دھوپ کی سلطانی میں جیسے بادل کی تلوار گرے
دیواروں کا گریہ ہو یا ویرانی کی دھار گرے
سارے غم جی اٹھتے ہیں جب بارش کی جھنکار گرے
پتوں کا گرنا ہے ایسے موسم کی بربادی پر
جیسے میرے ہمسائے میں روز کوئی دیوار گرے
پانی پانی ہو جاتے ہیں آنکھوں میں سارے منظر
دھوپ کی سلطانی میں جیسے بادل کی تلوار گرے
بریدہ سر کوئی چھایا ہوا ہے
کسی نے درد مہکایا ہوا ہے
تمہارے ہاتھ میں جو چوڑیاں ہیں
یہ تم نے مجھ کو بہلایا ہوا ہے
میری جاں تیری آنکھوں کا پرندہ
عدن کے باغ سے آیا ہوا ہے
شجر سہمے ہوئے ہیں اور اداسی چھا رہی ہے
دواروں پر بدن کی خامشی لہرا رہی ہے
پرندہ آگ کا بیٹھا ہوا ہے لکڑیوں پر
دھوئیں کی برف ہے، ٹھنڈی ہوا سی آ رہی ہے
دھواں ہے، اوس ہے اور راکھ ہے نظروں کے آگے
کوئی تصویر جیسے آئینہ پگھلا رہی ہے
ندی کی روشنی تھی، اور چڑیا بولتی تھی
اندھیری رات ریزہ ریزہ آنسو ڈولتی تھی
خموشی جل رہی تھی ہونٹ پہرہ دے رہے تھے
ہوائیں سو رہی تھیں، سانس کی لو بولتی تھی
مسافر تھے، شبینہ ڈاک کا دفتر کھلا تھا
کہیں حسرت پرانی چِھٹیوں کو تولتی تھی
وقت کے کالے دروازوں پر حال سُنانے آئے تھے
غم خاموش گھروں کے اندر گانا گانے آئے تھے
ہاتھ سجائے پھرتے تھے ہم روز نئے انگاروں سے
خاک کی چادر اوڑھ کے ہم کو خواب سُہانے آئے تھے
چاند اُگا یا گھر گھر اس کا سایہ رونے آیا تھا
عید پہ بستی والے اپنے زخم دِکھانے آئے تھے