Showing posts with label بابر زیدی. Show all posts
Showing posts with label بابر زیدی. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

دیواروں کا گریہ ہو یا ویرانی کی دھار گرے

 دیواروں کا گریہ ہو یا ویرانی کی دھار گرے 

سارے غم جی اٹھتے ہیں جب بارش کی جھنکار گرے 

پتوں کا گرنا ہے ایسے موسم کی بربادی پر

جیسے میرے ہمسائے میں روز کوئی دیوار گرے

پانی پانی ہو جاتے ہیں آنکھوں میں سارے منظر

دھوپ کی سلطانی میں جیسے بادل کی تلوار گرے

Monday, 27 December 2021

بریدہ سر کوئی چھایا ہوا ہے

 بریدہ سر کوئی چھایا ہوا ہے

کسی نے درد مہکایا ہوا ہے

تمہارے ہاتھ میں جو چوڑیاں ہیں

یہ تم نے مجھ کو بہلایا ہوا ہے

میری جاں تیری آنکھوں کا پرندہ 

عدن کے باغ سے آیا ہوا ہے

Friday, 5 November 2021

شجر سہمے ہوئے ہیں اور اداسی چھا رہی ہے

 شجر سہمے ہوئے ہیں اور اداسی چھا رہی ہے

دواروں پر بدن کی خامشی لہرا رہی ہے

پرندہ آگ کا بیٹھا ہوا ہے لکڑیوں پر

دھوئیں کی برف ہے، ٹھنڈی ہوا سی آ رہی ہے

دھواں ہے، اوس ہے اور راکھ ہے نظروں کے آگے

کوئی تصویر جیسے آئینہ پگھلا رہی ہے

Thursday, 4 November 2021

ندی کی روشنی تھی اور چڑیا بولتی تھی

 ندی کی روشنی تھی، اور چڑیا بولتی تھی

اندھیری رات ریزہ ریزہ آنسو ڈولتی تھی

خموشی جل رہی تھی ہونٹ پہرہ دے رہے تھے

ہوائیں سو رہی تھیں، سانس کی لو بولتی تھی

مسافر تھے، شبینہ ڈاک کا دفتر کھلا تھا

کہیں حسرت پرانی چِھٹیوں کو تولتی تھی

Thursday, 12 August 2021

وقت کے کالے دروازوں پر حال سنانے آئے تھے

 وقت کے کالے دروازوں پر حال سُنانے آئے تھے

غم خاموش گھروں کے اندر گانا گانے آئے تھے

ہاتھ سجائے پھرتے تھے ہم روز نئے انگاروں سے

خاک کی چادر اوڑھ کے ہم کو خواب سُہانے آئے تھے

چاند اُگا یا گھر گھر اس کا سایہ رونے آیا تھا

عید پہ بستی والے اپنے زخم دِکھانے آئے تھے