Thursday, 12 August 2021

وقت کے کالے دروازوں پر حال سنانے آئے تھے

 وقت کے کالے دروازوں پر حال سُنانے آئے تھے

غم خاموش گھروں کے اندر گانا گانے آئے تھے

ہاتھ سجائے پھرتے تھے ہم روز نئے انگاروں سے

خاک کی چادر اوڑھ کے ہم کو خواب سُہانے آئے تھے

چاند اُگا یا گھر گھر اس کا سایہ رونے آیا تھا

عید پہ بستی والے اپنے زخم دِکھانے آئے تھے

دِیوالی کی رات مقیّد تھی شہزادی کمرے میں

پھر جگنوں کیواڑ پہ اپنا چشن منانے آئے تھے

رُت بدلی یا باغِ عدن میں پیڑ نے ٹھوکر کھائی تھی

کچھ پتے خاموش ندی پر شور مچانے آئے تھے


بابر زیدی

No comments:

Post a Comment