سنئیے عزت مآب آہستہ
یہ تھا پہلا خطاب، آہستہ
گُنگنایا میں، دیکھ کر بولے
بند کر کے کتاب، آہستہ
ہاتھ پر ہاتھ آ گیا ان کے
وہ کراہے؛ جناب آہستہ
سنئیے عزت مآب آہستہ
یہ تھا پہلا خطاب، آہستہ
گُنگنایا میں، دیکھ کر بولے
بند کر کے کتاب، آہستہ
ہاتھ پر ہاتھ آ گیا ان کے
وہ کراہے؛ جناب آہستہ
جب جب خیالِ یار کے بندِ قبا کُھلے
خُوشبو کے سات رنگ مِرے احساس میں گُھلے
ہر صبح، تیری چشم کُشائی کو دیکھنے
اترے تِری دہلیز پہ کرنوں کے قافلے
ممکن نہیں زباں سے بیان ہو فُغانِ دل
اے کاش میرے دل کو کسی شب زباں ملے
دل تو دل سارا گھر اُداسی ہے
آج تو اس قدر اداسی ہے
پتے پتے پہ ہِجر لکھا ہے
ہر شجر ہر شجر اداسی ہے
کہکشاؤں کو رشک تھا جس پر
اب تو وہ راہگزر اداسی ہے
کوئی صبح تو ایسی ہو
تِری آواز پر جاگوں
تِری مدھم سی سرگوشی
سماعت میں گُھلے جیسے
کسی ویران بستی پر
محبت کی بہاروں کا
کب ترے حسنِ طرحدار کی حد ہوتی ہے
کیا کیا جائے کے افکار کی حد ہوتی ہے
سوچ کے پنچھی کو اڑنا ہے، درونِ تقدیر
دام لا حد ہے، گرفتار کی حد ہوتی ہے
اب تُو اقرار بھی کر لے تو یقیں کس کو ہے
یار! جانے بھی دے، انکار کی حد ہوتی ہے
ہم سے نہ ہو گی ستم سہہ کے مناجات کی بات
ہم سے کیجئے گا فقط لطف و عنایات کی بات
چٹکیاں ہونٹوں کی ہوں جام وصل کے قصے
داستاں زلف کی ہو مہکتی برسات کی بات
ہم نہ بھٹکیں گے کسی دشت میں بن کر مجنوں
ہم حقیقت میں نہ لائیں گے حکایات کی بات
ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے
ظلم کے ہاتھ پہ بیعت نہیں کی جا سکتی
میں نے کربل کے شہیدوں سے سبق سیکھا ہے
بیچ کر دِین، تجارت نہیں کی جا سکتی
قفس کی چار دیواری پہ لہو بولے گا
سنگلاخوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی
ناکام ہو کے رہ گئی ہر احتیاطِ دل
اک ہی نظر نے الٹ کے رکھ دی بساطِ دل
جیسے جگا کے نیند سے لُوٹے کوئی متاع
کچھ اس طرح اس آنکھ نے کی وارداتِ دل
اچھے نہیں ہیں ان دنوں موسم کے ذائقے
ہم سے کوئی نہ پوچھے ہمارے حالاتِ دل
تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے
جیتے جی غیر کا ہو تو ایسا نہیں ایسا نہیں
وہ دور جا چکا کہیں یاد اس کی رہ گئی یہاں
اب زخم دل تو ٹھیک ہے پر داغ دل گیا نہیں
اہل خرد کی بات میں دم تو ہے اے دیوانگی
میں اس کا کیوں ہوں آج بھی، وہ جو مِرا رہا نہیں
چل کے کہتا تھا مجھ کو چال سنبھال
میرے دشمن! زرا زوال، سنبھال
میں طبیبوں کے بس کا نئی مجھ کو
اے مِرے صاحبِ جمال سنبھال
عشق، اے عقل تیرے بس کا نہیں
جا ری جا خرد اپنے جال سنبھال
رمزِ اُلفت جو گرفتار سمجھ لیتے ہیں
اپنے سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں
دیکھ جا چشمِ تبسم سے کہ بیمار تِرے
تیری مُسکان کو غمخوار سمجھ لیتے ہیں
خود میں ساحر ہے مِری سادہ دلی کہ مجھ کو
جتنے ہُشیار ہیں، فنکار سمجھ لیتے ہیں
دل لگی بگڑی محبت بن گئی
اک شرارت تھی قیامت بن گئی
بُھولتا ہوں یاد کر کر کے تجھے
جان پر دوہری مصیبت بن گئی
ناز تھا اپنی وفا پر دل تجھے
کیا ہوا کیونکر ندامت بن گئی؟