Showing posts with label سانول حیدری. Show all posts
Showing posts with label سانول حیدری. Show all posts

Thursday, 2 November 2023

سنئیے عزت مآب آہستہ

 سنئیے عزت مآب آہستہ

یہ تھا پہلا خطاب، آہستہ

گُنگنایا میں، دیکھ کر بولے

بند کر کے کتاب، آہستہ

ہاتھ پر ہاتھ آ گیا ان کے

وہ کراہے؛ جناب آہستہ

Thursday, 19 October 2023

جب جب خیال یار کے بند قبا کھلے

 جب جب خیالِ یار کے بندِ قبا کُھلے

خُوشبو کے سات رنگ مِرے احساس میں گُھلے

ہر صبح، تیری چشم کُشائی کو دیکھنے

اترے تِری دہلیز پہ کرنوں کے قافلے

ممکن نہیں زباں سے بیان ہو فُغانِ دل

اے کاش میرے دل کو کسی شب زباں ملے

Tuesday, 17 October 2023

دل تو دل سارا گھر اداسی ہے

 دل تو دل سارا گھر اُداسی ہے

آج تو اس قدر اداسی ہے

پتے پتے پہ ہِجر لکھا ہے

ہر شجر ہر شجر اداسی ہے

کہکشاؤں کو رشک تھا جس پر

اب تو وہ راہگزر اداسی ہے

Thursday, 12 October 2023

کوئی صبح تو ایسی ہو تری آواز پر جاگوں

 کوئی صبح تو ایسی ہو

تِری آواز پر جاگوں

تِری مدھم سی سرگوشی

سماعت میں گُھلے جیسے

کسی ویران بستی پر

محبت کی بہاروں کا

Wednesday, 11 October 2023

کب ترے حسن طرحدار کی حد ہوتی ہے

 کب ترے حسنِ طرحدار کی حد ہوتی ہے

کیا کیا جائے کے افکار کی حد ہوتی ہے

سوچ کے پنچھی کو اڑنا ہے، درونِ تقدیر

دام لا حد ہے، گرفتار کی حد ہوتی ہے

اب تُو اقرار بھی کر لے تو یقیں کس کو ہے

یار! جانے بھی دے، انکار کی حد ہوتی ہے

Tuesday, 10 October 2023

ہم سے نہ ہو گی ستم سہہ کے مناجات کی بات

 ہم سے نہ ہو گی ستم سہہ کے مناجات کی بات

ہم سے کیجئے گا فقط لطف و عنایات کی بات

چٹکیاں ہونٹوں کی ہوں جام وصل کے قصے

داستاں زلف کی ہو مہکتی برسات کی بات

ہم نہ بھٹکیں گے کسی دشت میں بن کر مجنوں

ہم حقیقت میں نہ لائیں گے حکایات کی بات

Saturday, 7 October 2023

ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے

 ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے

ظلم کے ہاتھ پہ بیعت نہیں کی جا سکتی

میں نے کربل کے شہیدوں سے سبق سیکھا ہے

بیچ کر دِین، تجارت نہیں کی جا سکتی

قفس کی چار دیواری پہ لہو بولے گا

سنگلاخوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی

ناکام ہو کے رہ گئی ہر احتیاط دل

 ناکام ہو کے رہ گئی ہر احتیاطِ دل

اک ہی نظر نے الٹ کے رکھ دی بساطِ دل

جیسے جگا کے نیند سے لُوٹے کوئی متاع

کچھ اس طرح اس آنکھ نے کی وارداتِ دل

اچھے نہیں ہیں ان دنوں موسم کے ذائقے

ہم سے کوئی نہ پوچھے ہمارے حالاتِ دل

Friday, 6 October 2023

تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے

 تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے

جیتے جی غیر کا ہو تو ایسا نہیں ایسا نہیں

وہ دور جا چکا کہیں یاد اس کی رہ گئی یہاں

اب زخم دل تو ٹھیک ہے پر داغ دل گیا نہیں

اہل خرد کی بات میں دم تو ہے اے دیوانگی

میں اس کا کیوں ہوں آج بھی، وہ جو مِرا رہا نہیں

Tuesday, 3 October 2023

چل کے کہتا تھا مجھ کو چال سنبھال

 چل کے کہتا تھا مجھ کو چال سنبھال

میرے دشمن! زرا زوال، سنبھال

میں طبیبوں کے بس کا نئی مجھ کو

اے مِرے صاحبِ جمال سنبھال

عشق، اے عقل تیرے بس کا نہیں

جا ری جا خرد اپنے جال سنبھال

Sunday, 1 October 2023

رمز الفت جو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

 رمزِ اُلفت جو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

اپنے سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں

دیکھ جا چشمِ تبسم سے کہ بیمار تِرے

تیری مُسکان کو غمخوار سمجھ لیتے ہیں

خود میں ساحر ہے مِری سادہ دلی کہ مجھ کو

جتنے ہُشیار ہیں، فنکار سمجھ لیتے ہیں

Saturday, 10 July 2021

دل لگی بگڑی محبت بن گئی

 دل لگی بگڑی محبت بن گئی

اک شرارت تھی قیامت بن گئی

بُھولتا ہوں یاد کر کر کے تجھے

جان پر دوہری مصیبت بن گئی

ناز تھا اپنی وفا پر دل تجھے

کیا ہوا کیونکر ندامت بن گئی؟