دل لگی بگڑی محبت بن گئی
اک شرارت تھی قیامت بن گئی
بُھولتا ہوں یاد کر کر کے تجھے
جان پر دوہری مصیبت بن گئی
ناز تھا اپنی وفا پر دل تجھے
کیا ہوا کیونکر ندامت بن گئی؟
اب کسی سے کوئی شکوہ ہی نہیں
تیرا غم میری ولایت بن گئی
چاند، گُل، قوسِ قزح، برکھا، صبا
سب ملے سانول، وہ صورت بن گئی
سانول حیدری
No comments:
Post a Comment