Saturday, 10 July 2021

دل لگی بگڑی محبت بن گئی

 دل لگی بگڑی محبت بن گئی

اک شرارت تھی قیامت بن گئی

بُھولتا ہوں یاد کر کر کے تجھے

جان پر دوہری مصیبت بن گئی

ناز تھا اپنی وفا پر دل تجھے

کیا ہوا کیونکر ندامت بن گئی؟

اب کسی سے کوئی شکوہ ہی نہیں

تیرا غم میری ولایت بن گئی

چاند، گُل، قوسِ قزح، برکھا، صبا

سب ملے سانول، وہ صورت بن گئی


سانول حیدری

No comments:

Post a Comment