Saturday, 10 July 2021

کاغذ قلم کتاب سے محروم ہو گئے

 کاغذ قلم کتاب سے محروم ہو گئے

ہم جیتے جی جہان میں مرحوم ہو گئے

حاکم بنے تو کھو گئے دنیائے عیش میں

ساقی شراب جام کے محکوم ہو گئے

مقتول ہی پہ آ گیا الزامِ خودکشی

قاتل نگاہِ عدل میں معصوم ہو گئے

غربت میں ساتھ چھوڑ دیا تُو نے بھی مِرا

معنی تِرے خلوص کے معلوم ہو گئے

کس سے ملیں کہ ذہن نہیں ہے کسی کا صاف

سارے ہی لوگ شہر کے مسموم ہو گئے

مطلب پرست رہ گئے قیصر جہان میں

جو پیکرِ خلوص تھے، معدوم ہو گئے


عبدالصمد قیصر

No comments:

Post a Comment