میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے
ایک کافر کو مسلمان نہ ہونے دیں گے
اک منافق کی طرح آپ بسے ہیں دل میں
یعنی پورا کوئی ارمان نہ ہونے دیں گے
یاد کر لیں گے تجھے گاہے بگاہے جاناں
ہجر کو ہم کبھی آسان نہ ہونے دیں گے
میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے
ایک کافر کو مسلمان نہ ہونے دیں گے
اک منافق کی طرح آپ بسے ہیں دل میں
یعنی پورا کوئی ارمان نہ ہونے دیں گے
یاد کر لیں گے تجھے گاہے بگاہے جاناں
ہجر کو ہم کبھی آسان نہ ہونے دیں گے
ہم کو تِری طرف سے اشارہ نہیں ملا
آنکھیں ملیں مگر وہ نظارہ نہیں ملا
ملنے کی آرزو تو رہی عمر بھر مجھے
لیکن مجھے وہ شخص دوبارہ نہیں ملا
ہم نے سفر تمام سمندر میں طے کیا
افسوس ہے یہی کہ کنارہ نہیں ملا
ادھوری اک کہانی چل رہی ہے
مسلسل زندگانی چل رہی ہے
لُٹا دی جان ہم نے دوستوں پر
روایت خاندانی چل رہی ہے
کریں گے یار! توبہ بعد میں اب
ابھی تو جوانی چل رہی ہے
وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے
بتاؤ، کیا تماشا ہو رہا ہے
مجھے سچی محبت کا گماں تھا
یہاں پر بس دِکھاوا ہو رہا ہے
ہمیں سکھلا رہے ہیں گُر سبھی کو
ہمیں سے پھر چھلاوا ہو رہا ہے
یہاں ماحول کچھ ایسا ہُوا ہے
محبت لفظ تک رُسوا ہوا ہے
حکومت روشنی نے چھوڑ دی اب
تبھی ظُلمت! تِرا قبضہ ہوا ہے
ہماری جیت پکی ہو گئی تھی
ہمیں شک ہے کہیں دھوکا ہوا ہے
ہر اک تکلیف سمجھی ہے تمہاری
پھر اس کے بعد مرضی ہے تمہاری
نہیں ثابت ہوئے کافر کبھی ہم
پرستش اس طرح کی ہے تمہاری
ہمارے بعد جاناں سچ بتاؤ
کسی نے کیا خبر لی ہے تمہاری