Showing posts with label حمزہ بلال. Show all posts
Showing posts with label حمزہ بلال. Show all posts

Monday, 4 October 2021

میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے

 میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے

ایک کافر کو مسلمان نہ ہونے دیں گے

اک منافق کی طرح آپ بسے ہیں دل میں

یعنی پورا کوئی ارمان نہ ہونے دیں گے

یاد کر لیں گے تجھے گاہے بگاہے جاناں

ہجر کو ہم کبھی آسان نہ ہونے دیں گے

Tuesday, 28 September 2021

ہم کو تری طرف سے اشارا نہیں ملا

 ہم کو تِری طرف سے اشارہ نہیں ملا

آنکھیں ملیں مگر وہ نظارہ نہیں ملا

ملنے کی آرزو تو رہی عمر بھر مجھے

لیکن مجھے وہ شخص دوبارہ نہیں ملا

ہم نے سفر تمام سمندر میں طے کیا

افسوس ہے یہی کہ کنارہ نہیں ملا

Monday, 27 September 2021

ادھوری اک کہانی چل رہی ہے

 ادھوری اک کہانی چل رہی ہے

مسلسل زندگانی چل رہی ہے 

لُٹا دی جان ہم نے دوستوں پر 

روایت خاندانی چل رہی ہے 

کریں گے یار! توبہ بعد میں اب 

ابھی تو جوانی چل رہی ہے

Sunday, 26 September 2021

وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے

 وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے

بتاؤ، کیا تماشا ہو رہا ہے

مجھے سچی محبت کا گماں تھا

یہاں پر بس دِکھاوا ہو رہا ہے

ہمیں سکھلا رہے ہیں گُر سبھی کو

ہمیں سے پھر چھلاوا ہو رہا ہے

Saturday, 3 April 2021

یہاں ماحول کچھ ایسا ہوا ہے

 یہاں ماحول کچھ ایسا ہُوا ہے

محبت لفظ تک رُسوا ہوا ہے

حکومت روشنی نے چھوڑ دی اب

تبھی ظُلمت! تِرا قبضہ ہوا ہے

ہماری جیت پکی ہو گئی تھی

ہمیں شک ہے کہیں دھوکا ہوا ہے

Friday, 2 April 2021

ہر اک تکلیف سمجھی ہے تمہاری

 ہر اک تکلیف سمجھی ہے تمہاری

پھر اس کے بعد مرضی ہے تمہاری

نہیں ثابت ہوئے کافر کبھی ہم

پرستش اس طرح کی ہے تمہاری

ہمارے بعد جاناں سچ بتاؤ

کسی نے کیا خبر لی ہے تمہاری