جب سرِ زلف تا کمر پہونچا
اس کمر کو بہت ضرر پہونچا
ہلکی پہونچی سے بھی لچکتا ہے
نازک اس کا ہے اس قدر پہونچا
اے نسیمِ سحر! تُو اس گل کو
بے کلی کی مِری خبر پہونچا
جب سرِ زلف تا کمر پہونچا
اس کمر کو بہت ضرر پہونچا
ہلکی پہونچی سے بھی لچکتا ہے
نازک اس کا ہے اس قدر پہونچا
اے نسیمِ سحر! تُو اس گل کو
بے کلی کی مِری خبر پہونچا
رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر
کھوئی کاکل نے بھی آخر کو شب قدر کی قدر
عزت و قدر کی اس گل سے توقع ہے عبث
واں نہ عزت کی کچھ عزت ہے نہ کچھ قدر کی قدر
راستی خوار ہے اس چشم فسوں پرور سے
ہاں، مگر منزلت مکر ہے اور غدر کی قدر
ادھر یار جب مہربانی کرے گا
تو اپنا بھی جی شادمانی کرے گا
دیا دل نظیر اس کو یوں کہہ کے اے جاں
کہو گے تو یہ پاسبانی کرے گا
پڑھے گا یہ اشعار بیٹھو گے جب تک
جو لیٹو گے افسانہ خوانی کرے گا
بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تک
دیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تک
اقرار تھا سحر کا ایسا ہوا سبب کیا
جو شام ہونے آئی اور وہ نہ آیا اب تک
محفل میں گل رخوں کے آیا جو وہ پری رو
ہو شکل حیرت اس کی صورت رہے وہ سب تک
نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں
کوئی خوبرُو لے، تو ہاں بیچتا ہوں
وہ مے جس کو سب بیچتے ہیں چھپا کر
میں اس مے کو یارو! عیاں بیچتا ہوں
یہ دل جس کو کہتے ہیں عرشِ الٰہی
سو اس دل کو یارو! میں یاں بیچتا ہوں
مُکھڑے کو ترے دیکھ کے رشکِ گُلِ لالا
پھولے ہے پڑا دل میں ترا چاہنے والا
عالم کے چمن ساز نے یہ سرو کیا واہ
خوبی کی گلستاں میں عجب شان سے بالا
سب تن کو ترے دیکھ یہی کہتے ہیں اے گُل
اللہ نے، کس نور کا یہ عطر نکالا
صحنِ گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ
چشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم ﷲ
مصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیں
مو قلم سے یدِ قدرت نے لکھا بسم ﷲ
اس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکایک جو گرا
میں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم ﷲ
ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش؟
ہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش
دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاب
اپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش
سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیں
تھی عجب نازاں بخود اس باٹ کی اک اک روش