Showing posts with label نظیر اکبر آبادی. Show all posts
Showing posts with label نظیر اکبر آبادی. Show all posts

Monday, 6 June 2022

جب سر زلف تا کمر پہونچا

جب سرِ زلف تا کمر پہونچا

اس کمر کو بہت ضرر پہونچا

ہلکی پہونچی سے بھی لچکتا ہے

نازک اس کا ہے اس قدر پہونچا

اے نسیمِ سحر! تُو اس گل کو

بے کلی کی مِری خبر پہونچا

Monday, 18 April 2022

رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر

 رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر

کھوئی کاکل نے بھی آخر کو شب قدر کی قدر

عزت و قدر کی اس گل سے توقع ہے عبث

واں نہ عزت کی کچھ عزت ہے نہ کچھ قدر کی قدر

راستی خوار ہے اس چشم فسوں پرور سے

ہاں، مگر منزلت مکر ہے اور غدر کی قدر

Friday, 15 April 2022

ادھر یار جب مہربانی کرے گا

 ادھر یار جب مہربانی کرے گا

تو اپنا بھی جی شادمانی کرے گا

دیا دل نظیر اس کو یوں کہہ کے اے جاں

کہو گے تو یہ پاسبانی کرے گا

پڑھے گا یہ اشعار بیٹھو گے جب تک

جو لیٹو گے افسانہ خوانی کرے گا

Wednesday, 30 March 2022

بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تک

 بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تک

دیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تک

اقرار تھا سحر کا ایسا ہوا سبب کیا

جو شام ہونے آئی اور وہ نہ آیا اب تک

محفل میں گل رخوں کے آیا جو وہ پری رو

ہو شکل حیرت اس کی صورت رہے وہ سب تک

Friday, 25 March 2022

نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں

 نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں

کوئی خوبرُو لے، تو ہاں بیچتا ہوں

وہ مے جس کو سب بیچتے ہیں چھپا کر

میں اس مے کو یارو! عیاں بیچتا ہوں

یہ دل جس کو کہتے ہیں عرشِ الٰہی

سو اس دل کو یارو! میں یاں بیچتا ہوں

Sunday, 20 December 2020

مکھڑے کو ترے دیکھ کے رشک گل لالا

 مُکھڑے کو ترے دیکھ کے رشکِ گُلِ لالا

پھولے ہے پڑا دل میں ترا چاہنے والا

عالم کے چمن ساز نے یہ سرو کیا واہ

خوبی کی گلستاں میں عجب شان سے بالا

سب تن کو ترے دیکھ یہی کہتے ہیں اے گُل

اللہ نے، کس نور کا یہ عطر نکالا

Thursday, 15 October 2020

صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ

 صحنِ گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ

چشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم ﷲ

مصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیں

مو قلم سے یدِ قدرت نے لکھا بسم ﷲ

اس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکایک جو گرا

میں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم ﷲ

Thursday, 19 January 2017

جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

جاڑے کی بہاریں

جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
دن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
چلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہے

عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہے
دل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانتا ہے
ناز اٹھانے میں جفائیں تو اٹھائِیں، لیکن 
لطف بھی ایسا اٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے
زخم اس تیغ نگہ کا مِرے دل نے ہنس ہنس
اس مزیداری سے کھایا ہے کہ جی جانتا ہے

مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشکِ حور لے جانا

مِرا خط ہے جہاں یارو! وہ رشکِ حور، لے جانا
کسی صورت سے تم واں تک مرا مذکور لے جانا
اگر وہ شعلہ رُو پوچھے مرے دل کے پھپولوں کو
تو اس کے سامنے اک خوشۂ انگور لے جانا
جو یہ پوچھے کہ اب کتنی ہے اسکے رنگ پر زردی
تو یارو! تم گلِ صد برگ با کافور لے جانا

پھر آن کے منت سے ملا ہم سے وہ لالا

پھر آن کے منت سے ملا، ہم سے وہ لالا
المنتہ للہ تقدس و تعالٰے
کر قتل، مجھے تُو نے ہمیشہ کو جلایا
ظالم! تجھے جیتا رکھے اللہ تعالٰے
دیکھ اب تو مجھے ہر کوئی کہتا ہے یہی، آہ
”پھر قبر سے اللہ نے مجنوں کو نکالا“

Sunday, 25 December 2016

نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا

نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا
وہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا
اگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانند
تو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا
قرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہے
غرض پھر آپ میں آنا مجھے محال ہوا

سبھوں کو مے ہمیں خوناب دل پلانا تھا

سبھوں کو مے، ہمیں خونابِ دل پلانا تھا 
فلک مجھی پہ تجھے کیا یہ زہر کھانا تھا
لگی تھی آگ جگر میں بجھائی اشکوں نے 
اگر یہ اشک نہ ہوتے تو کیا ٹھکانہ تھا
نِگہ سے اس کی بچاتا میں کس طرح دل کو
ازل سے یہ تو اسی تیر کا نشانہ تھا

دوری میں قمر کی جب آتی ہے چاندنی

دوری میں قمر کی جب آتی ہے چاندنی
خوابیدہ حسرتوں کو جگاتی ہے چاندنی
مہ آسماں پہ ہوتا ہے دیکھ اس کو شرمسار
روۓ زمیں پہ ٹھوکریں کھاتی ہے چاندنی
کی یکدلی ہے، ہم نے جو کہہ بھیجا اے نظیرؔ
تم بِن ہمارے دل کو ستاتی ہے ہے چاندنی

Friday, 16 December 2016

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش

 ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش؟

ہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش

دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاب

اپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش

سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیں

تھی عجب نازاں بخود اس باٹ کی اک اک روش

Monday, 19 September 2016

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو
یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
جدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچہ سے
الٰہی! راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو
علاج کیا کریں حکماء تپِ جدائی کا
سوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو

کل سنا ہم نے یہ کہتا تھا وہ اک ہمراز سے

کل سنا ہم نے یہ کہتا تھا وہ اک ہمراز سے
دیکھتا تھا مجھ کو آج اک شخص عجب انداز سے
وہ نیازِ و عِجز تھا اس کی نِگہ سے آشکار
جس طرح سے تھک رہے طائر کہیں پرواز سے
تُو جو واقف ہو تو جا اس کو بُلا لا اس گھڑی
میں تسلی دوں اسے کچھ شرم سے، کچھ ناز سے

رخ تو وہ ماہتاب سا دیکھا

رخ تو وہ ماہتاب سا دیکھا
تن بھی موتی کی آب سا دیکھا
کی نِگہ چشم پر تو اس کو بھی
ساغرِ پُر شباب سا دیکھا
پیرہن، برگِ گل پہ جوں شبنم
عرقِ تن، گلاب سا دیکھا

Saturday, 25 June 2016

کیا خوب سودا نقد ہے اس ہات دے اس ہات لے

دنیا دار المکافات ہے

دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی سات لے
نیکی کا بدلہ نیک ہے، بد سے بدی کی بات لے
میوہ کھلا میوں ملے پھل پھول دے پھل پات لے
آرام دے آرام لے دکھ درد دے آفات لے
کلجگ نہیں کر جگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات کو لے
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہات دے، اس ہات لے

کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا

کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا
کہ جس کے غم سے مِرا دل ہوا ہے باولیا
تمام گوروں کے حیرت سے رنگ اڑ جاتے
جو گھر سے آج نکلتا وہ میرا سانولیا
تجھے خبر نہیں بلبل کے باغ سے گل چیں
بڑی سی پھولوں کی اک بھر کے لے گیا ڈلیا