Friday, 15 April 2022

ادھر یار جب مہربانی کرے گا

 ادھر یار جب مہربانی کرے گا

تو اپنا بھی جی شادمانی کرے گا

دیا دل نظیر اس کو یوں کہہ کے اے جاں

کہو گے تو یہ پاسبانی کرے گا

پڑھے گا یہ اشعار بیٹھو گے جب تک

جو لیٹو گے افسانہ خوانی کرے گا

بٹھاؤ گے در پر تو ہو گا یہ درباں

لڑاؤ گے تو پہلوانی کرے گا

اطاعت میں خدمت میں فرماں بری میں

غرض ہر طرح جانفشانی کرے گا


نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment