آج پھر سچ مر گیا ہے
علم کے کچھ چاہنے والے بھی اب تو
علم کو ہی قید میں رکھنے لگے ہیں
لوگ ہیں خاموش، کوئی جادو ایسا کر دیا ہے
سچ لکھا ہے کیوں زباں ہی کاٹ ڈالو
ہم سے اچھا لکھ سکے اوقات اس کی
تلخ ہے سچائی کا یہ زہر بھی اب
ان سپیروں کے پٹارے
بھر گئے ہیں سانپوں سے گویا لبالب
سانپ یہ زہریلے ہیں بے انتہا سب
اب انہوں نے سچ نگل کر
پانی جیسا کر دیا ہے
شمسہ نجم
No comments:
Post a Comment