Friday, 15 April 2022

آج پھر سچ مر گیا ہے

 آج پھر سچ مر گیا ہے 


علم کے کچھ چاہنے والے بھی اب تو

علم کو ہی قید میں رکھنے لگے ہیں

لوگ ہیں خاموش، کوئی جادو ایسا کر دیا ہے

سچ لکھا ہے کیوں زباں ہی کاٹ ڈالو

ہم سے اچھا لکھ سکے اوقات اس کی

تلخ ہے سچائی کا یہ زہر بھی اب

ان سپیروں کے پٹارے

بھر گئے ہیں سانپوں سے گویا لبالب

سانپ یہ زہریلے ہیں بے انتہا سب

اب انہوں نے سچ نگل کر

پانی جیسا کر دیا ہے


شمسہ نجم

No comments:

Post a Comment