Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts

Wednesday, 14 August 2024

کوئی محشر بھی ہوتا کوئی پل تلوار ہو جاتا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کوئی محشر بھی ہوتا، کوئی پُل تلوار ہو جاتا 

میں تیراﷺ نام لیتا، پاؤں رکھتا، پار ہو جاتا 

اگر سورج اُتر آتا، سوا نیزے کی دُوری پر 

وہاں بھی نام تیراﷺ سایۂ دیوار ہو جاتا 

اُدھر دیکھا نہیں آقاؐ نے، تو کچھ بھید ہے ورنہ 

جہنم پر نظر پڑتی تو وہ گلزار ہو جاتا 

Saturday, 16 July 2022

چل دیا وہ دیکھ کر پہلو مری تقصیر کا

 چل دیا وہ دیکھ کر پہلو مِری تقصیر کا

دوسرا رخ اس نے دیکھا ہی نہیں تصویر کا

باقی سارے خط پہ دھبے آنسوؤں کے رہ گئے

ایک ہی جملہ پڑھا میں نے تِری تحریر کا

تُو نے کیسے لفظ ہونٹوں کی کماں میں کس لیے

اتنا گہرا گھاؤ تو ہوتا نہیں ہے تیر کا

Tuesday, 19 April 2022

تعلقات میں یہ ایک سانِحہ بھی ہے

 تعلقات میں یہ ایک سانِحہ بھی ہے​

محبتیں بھی ہیں اور درمیاں اَنا بھی ہے​

یہ ٹھیک، تجھ کو شکایت بھی ہے، گلہ بھی ہے​

تو یہ بتا کہ تجھے میں نے کچھ کہا بھی ہے​

کوئی بھی پُل ہو، وہ دو ساحلوں پہ بنتا ہے​

گر ایک دل ہے تِرا، ایک دل مِرا بھی ہے

Monday, 18 April 2022

سوئی رہی ہے ساری خدائی تمام شب

 سوئی رہی ہے ساری خدائی تمام شب​

دیتا رہا ہے کوئی دُہائی تمام شب​

جس کے لیے عدیم سجائی تمام شب​

اس نے تو شکل بھی نہ دکھائی تمام شب​

شاید پہل اسی کی طرف سے ہو بات کی​

اس انتظار میں ہی گنوائی تمام شب

Sunday, 17 April 2022

ازل سے جو سروں پر ہے، ہمیشہ وہ سماں کیوں ہو

 ازل سے جو سروں پر ہے، ہمیشہ وہ سماں کیوں ہو

نئے ہیں ہم زمیں پر تو پرانا آسماں کیوں ہو

ہرا سورج کبھی نکلے، ستارے سرخ ہو جائیں

وہی پیلے سے انگارے، وہی نیلا دھواں کیوں ہو

شمالاً اور جنوباً بھی ستارے چل تو سکتے ہیں

سدا مغرب کی جانب ہی رواں یہ کارواں کیوں ہو

Wednesday, 16 June 2021

اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے کیا کہوں گا میں

اگر پوچھا کہ مجھ سے کام کیا ہے، کیا کہوں گا میں

کہا اس کام کا انجام کیا ہے؟ کیا کہوں گا میں

مجھے پہچاننے سے اس نے گر انکار کر ڈالا

اگر پوچھا کہ تِرا نام کیا ہے؟ کیا کہوں گا میں

پیامی بن کے جاؤں میں بچھڑنے کا تو کیا بولوں

اگر پوچھا تِرا پیغام کیا ہے؟ کیا کہوں گا میں

Sunday, 20 December 2020

پہلے تو دل وفا سے بھی آگے نکل گیا

 پہلے تو دل وفا سے بھی آگے نکل گیا

پھر دل اس انتہا سے بھی آگے نکل گیا

آواز دے کے اس کو بلاؤں میں کس طرح

وہ تو حدِ صدا سے بھی آگے نکل گیا

نکلی ہے روح نور کی رفتار سے بھی تیز

پَل میں کوئی خلا سے بھی آگے نکل گیا

Tuesday, 10 November 2020

پھر جدائی پھر جئے، پھر مر چلے​

 پھر جدائی، پھر جیے، پھر مر چلے​

لیکن اپنے دل کی جھولی بھر چلے​

بڑھ رہی ہیں خواہشیں دل کی طرف​

جیسے حملے کے لیے لشکر چلے​

انتظار، اور انتظار، اور انتظار​

کیسے کیسے مرحلے سر کر چلے​

جلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پر​

 نذرِ شکیب جلالی​

​

جلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پر​

سورج تھا جیسے، چاند نہ تھا آسمان پر​

اک روگ ہے کہ جاں کو لگا ہے اڑان کا​

ٹوٹا ہوا پڑا ہوں پروں کی دکان پر​

میں راستوں میں اس کا لگاؤں کہاں سراغ​

سو سو قدم ہیں، ایک قدم کے نشان پر​

Saturday, 31 October 2020

ایک وحشت کھڑی ہے ہر اک موڑ پر

 شہرِ برباد میں


شہرِ برباد میں

ایک وحشت کھڑی ہے ہر اک موڑ پر

گردِ ناکامئ عمر کی کوئی سوغات لے کر

ہمارے دلوں کی اداسی

یونہی بے سبب تو نہ تھی

Friday, 23 October 2020

میرے راستے میں پڑاؤ ہے

 میرے راستے میں پڑاؤ ہے

کسی رائیگانی کے درد کا

کئی گہری گہری اداسیاں

مجھے ڈھونڈ لائی ہیں شہر سے

تیرے بعد دہر میں زندگی

کئی ہجرتوں کی اسیر ہے

Sunday, 18 October 2020

کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے

 کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے

فرق لوگوں میں اس قدر کیوں ہے

تو ملا ہے تو یہ خیال آیا

زندگی اتنی مختصر کیوں ہے

جب تجھے لوٹ کر نہیں آنا

منتظر میری چشم تر کیوں ہے

Saturday, 10 October 2020

پھر بھی بیٹھی ہے خزاں باغ کی دیوار کے ساتھ

 پھر بھی بیٹھی ہے خزاں باغ کی دیوار کے ساتھ

جبکہ پتاّ بھی نہیں ہے کوئی اشجار کے ساتھ

کچھ تعلق تو نہیں تھا مِرا بیمار کے ساتھ

پھر بھی دل ڈوب گیا شام کے آثار کے ساتھ

کس نے چمکایا ہے سورج مِری دیوار کے ساتھ

صبح ہوتی ہے مِری تو، ترے دیدار کے ساتھ

Wednesday, 25 January 2017

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
تڑپ اٹھا میرا منصف بھی فیصلہ دے کر
میرے خدا، یہ برہنہ لباس پوش ہیں کون
عذاب کیا یہ دیا مجھ کو چشم وا دے کر
میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہت
اسے سکوں تو ملا، مجھ کو بد دعا دے کر

کیا خبر تھی پھر نیا وقت سفر آ جائے گا

کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
میں تو سمجھا تھا سفر کے بعد گھر آ جائے گا
اس غلط فہمی میں تنہا منزلیں طے ہو گئیں
چل پڑوں گا میں تو کوئی ہم سفر آ جائے گا
اتنی بے پروائیوں سے بھولنا اچھا نہیں
یہ ہنر ہے تو ہمیں بھی یہ ہنر آ جائے گا

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لئے

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے
سب کے سب آنسو نہیں ہوتے بہانے کے لیے
عمر تنہا کاٹ دی وعدہ نِبھانے کے لیے
عہد باندھا تھا کسی نے آزمانے کے لیے
یہ قفس ہے گھر کی زیبائش بڑھانے کے لیے
یہ پرندے تو نہیں ہیں آشیانے کے لیے

Tuesday, 17 January 2017

تلاش گمشدہ اب تو گھر آ جاؤ

تلاشِ گمشدہ

اب تو گھر آ جاؤ
دل کے چین
تجھے کچھ کیا کہنا ہے
ہم نے مانا
تیرے روٹھ جانے میں تو

بتا کہ راہ وفا میں کوئی سوار دیکھا

بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا
کہا کہ میں نے تو صرف اڑتا غبار دیکھا
بتاؤ پتھر بنے ہو دیکھے گا کون تم کو
کہا کہ جس نے چٹان میں شاہکار دیکھا
بتاؤ نشہ جو سب کو نشے میں چُور کر دے
کہا محبت میں صرف ایسا خمار دیکھا

Friday, 13 January 2017

زندگی پاؤں نہ دھر جانب انجام ابھی

زندگی پاؤں نہ دھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادھورے سے کئی کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تِری یاد سرِ شام ابھی
اک نظر اور ادھر دیکھ مسیحا میرے
تِرے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی

اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے

اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے
جا چکا وہ تو فیصلہ کر کے
حکم کر کے کہ التجا کر کے
تجھے چھوڑوں گا با وفا کر کے
کچھ نہیں ہے تو تجربہ ہی سہی
دیکھ ہی لے کبھی وفا کر کے