Sunday, 17 April 2022

ازل سے جو سروں پر ہے، ہمیشہ وہ سماں کیوں ہو

 ازل سے جو سروں پر ہے، ہمیشہ وہ سماں کیوں ہو

نئے ہیں ہم زمیں پر تو پرانا آسماں کیوں ہو

ہرا سورج کبھی نکلے، ستارے سرخ ہو جائیں

وہی پیلے سے انگارے، وہی نیلا دھواں کیوں ہو

شمالاً اور جنوباً بھی ستارے چل تو سکتے ہیں

سدا مغرب کی جانب ہی رواں یہ کارواں کیوں ہو

دوپٹہ جیسے پھیلا ہو کسی بیوہ سی بڑھیا کا

زمیں کے سر پہ دن کا زرد سایہ سائباں کیوں ہو

کبھی اڑتی ہو ئی یہ دھول بیٹھے بھی ستاروں کی

ہمیشہ سر پہ ساکت سا غبارِکہکشاں کیو ں ہو

مجھے یہ چاند پاگل کیوں لگے کوئی ستاروں میں

ہمیشہ پتھروں کا ہی ستاروں پر گماں کیوں ہو

کبھی نقطے ستاروں کی لکیروں میں بدل جائیں

سدا یہ رات کی چادر مثالِ پرنیاں کیوں ہو

اگر بنیاد چاہت ہو عدیم اس آفرینش کی

خطر کیوں ہو، حذر کیوں ہو، شرر کیوں ہو، دھواں کیوں ہو


عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment