Sunday, 17 April 2022

انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں

 انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں 

ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں 

یہاں کوئی نہیں سنتا حدیث دل زدگاں 

مگر میں اور طرح بات کرتا رہتا ہوں 

بھلا یہ عمر کوئی کاروبار شوق کی ہے 

بس اک تلافی مافات کرتا رہتا ہوں 

یہ کائنات مِرے بال و پر کے بس کی نہیں 

تو کیا کروں سفر ذات کرتا رہتا ہوں 

یہیں پہ وار حریفاں اٹھانا پڑتا ہے 

یہیں حساب مساوات کرتا رہتا ہوں 

عجب نہیں کسی کوشش میں کامراں ہو جاؤں 

محبتوں کی شروعات کرتا رہتا ہوں 

ہمیشہ کاسۂ خالی چھلکتا رہتا ہے 

فقیر ہوں سو کرامات کرتا رہتا ہوں 


عرفان صدیقی

No comments:

Post a Comment