جب ہوائیں باسی آنسوؤں کے بخار سے
بوجھل پھر رہی تھیں
میں نے تمہارے لمس سے نمو پائی
اور وجود کا قطر پھیلتا پھیلتا
پوری زندگی پر محیط ہو گیا
آواز نے آسمان کا راستہ ڈھونڈا
نظر زمین کے اندر سرنگ بناتی گئی
دل کی بستی میں محبت بارش کی طرح برسنے لگی
تمہارے وجود کا شفاف آئینہ مجھے تھما دیا گیا
میری تمام خوبصورتی نکھر کر سامنے آئی
اور ہر نقص مجھے واضح دکھنے لگا
ساحرِ دلنشیں
میری ذات کی تکمیل کے تمام عناصر
تم سے ہو کر مجھ تک آتے ہیں
عائزہ علی خان
No comments:
Post a Comment