Sunday, 17 April 2022

میں نے تمہارے لمس سے نمو پائی

جب ہوائیں باسی آنسوؤں کے بخار سے 

بوجھل پھر رہی تھیں 

میں نے تمہارے لمس سے نمو پائی

اور وجود کا قطر پھیلتا پھیلتا

پوری زندگی پر محیط ہو گیا 

آواز نے آسمان کا راستہ ڈھونڈا 

نظر زمین کے اندر سرنگ بناتی گئی 

دل کی بستی میں محبت بارش کی طرح برسنے لگی

تمہارے وجود کا شفاف آئینہ مجھے تھما دیا گیا 

میری تمام خوبصورتی نکھر کر سامنے آئی

اور ہر نقص مجھے واضح دکھنے لگا 

ساحرِ دلنشیں

میری ذات کی تکمیل کے تمام عناصر

تم سے ہو کر مجھ تک آتے ہیں 


عائزہ علی خان

No comments:

Post a Comment