Showing posts with label منچندا بانی. Show all posts
Showing posts with label منچندا بانی. Show all posts

Wednesday, 30 September 2020

جانے وہ کون تھا اور کس کو صدا دیتا تھا

 جانے وہ کون تھا اور کس کو صدا دیتا تھا

اس سے بچھڑا ہے کوئی اتنا پتہ دیتا تھا

کوئی کچھ پوچھے تو کہتا کہ ہوا سے بچنا

خود بھی ڈرتا تھا بہت سب کو ڈرا دیتا تھا

اس کی آواز کہ بے داغ سا آئینہ تھی

تلخ جملہ بھی وہ کہتا تو مزہ دیتا تھا

Saturday, 31 December 2016

اچھی ہے تجھ میں کوئی شے اسے نہ غارت کر

اچھی ہے تجھ میں کوئی شے اسے نہ غارت کر
جو ہو سکے تو کہیں دل لگا محبت کر
ادا یہ کس کٹے پتے سے تو نے سیکھی ہے
ستم ہوا کا ہو اور شاخ سے شکایت کر
نہ ہو مخل مِرے اندر کی ایک دنیا میں
بڑی خوشی سے بر و بحر پر حکومت کر

اک ڈھیر راکھ میں سے شرر چن رہا ہوں میں

اک ڈھیر راکھ میں سے شرر چن رہا ہوں میں
خوابوں کے درمیان خبر چن رہا ہوں میں
کیا دل خراش کام ہوا ہے مِرے سپرد
اک زرد رت کے برگ و ثمر چن رہا ہوں میں
اک خواب تھا کہ ٹوٹ گیا خوں کے حبس میں
اب تند دھڑکنوں کے بھنور چن رہا ہوں میں

Wednesday, 28 December 2016

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا
میں کہ عکسِ منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا
کون دے آواز خالی رات کے اندھے کنویں میں
کون اترے خواب سے محروم بستر میں اکیلا
اس کو تنہا کر گئی کروٹ کوئی پچھلے پہر کی
پھر اڑا بھاگا وہ سارا دن نگر بھر میں اکیلا

پی چکے تھے زہر غم خستہ جاں پڑے تھے ہم چین تھا

پی چکے تھے زہرِ غم خستہ جاں پڑے تھے ہم چین تھا
پھر کسی تمنا نے سانپ کی طرح ہم کو ڈس لیا
سر میں جو بھی تھا سودا اڑ گیا خلاؤں میں مثلِ گرد
ہم پڑے ہیں رستے میں نیم جاں شکستہ دل خستہ پا
میرے گھر تک آتے ہی کیوں جدا ہوئی تجھ سے کچھ بتا
ایک اور آہٹ بھی ساتھ ساتھ تھی تیرے اے صبا

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا

آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے گا
آنکھ کھلتی جائے گی منظر بدلتا جائے گا
پھیلتی جاۓ گی چاروں سمت اک خوش رونقی
ایک موسم میرے اندر سے نکلتا جائے گا
میری راہوں میں حسیں کرنیں بکھرتی جائیں گی
آخری تارا پسِ کہسار ڈھلتا جائے گا

Saturday, 17 September 2016

رہی نہ یارو آخر سکت ہواؤں میں

رہی نہ یارو! آخر سکت ہواؤں میں
چار دِیے روشن ہیں چار دِشاؤں میں
کائ جمی تھی سینے میں جانے کب سے
چیخ اٹھا وہ آ کر کھُلی فضاؤں میں 
اپنی گم آوازیں، آؤ! تلاش کریں
سبز پرندوں کی سیال صداؤں میں

پیہم موج امکانی میں

پیہم موجِ امکانی میں
اگلا پاؤں نئے پانی میں
صف شفق مِرے بستر تک
ساتوں رنگ فراوانی میں
بدن وصال آہنگ ہوا سا
قبا عجیب پریشانی میں

ادھر کی آئے گی اک رو ادھر کی آئے گی

اِدھر کی آئے گی اک رَو اُدھر کی آئے گی
کہ میرے ساتھ تو مٹی سفر کی آئے گی
ڈھلے گی شام جہاں کچھ نظر نہ آئے گا
پھر اس کے بعد بہت یاد گھر کی آئے گی
نہ کوئی جا کے اسے دُکھ مِرے سنائے گا
نہ کام دوستی اب شہر بھر کی آئے گی

Tuesday, 16 August 2016

بہت کچھ منتظر اک بات کا تھا

بہت کچھ منتظر اک بات کا تھا
کہ لمحہ لاکھ امکانات کا تھا
بچا لی تھی ضیا اندر کی اس نے
وہی اک آشنا اب رات کا تھا
رفاقت کیا کہاں کے مشترک خواب
کہ سارا سلسلہ شبہات کا تھا

اک گل تر بھی شرر سے نکلا

اک گلِ تر بھی شرر سے نکلا
بس کہ ہر کام ہنر سے نکلا
میں تِرے بعد پھر اے گمشدگی
خیمۂ گردِ سفر سے نکلا
غم نکلتا نہ کبھی سینے سے
اک محبت کی نظر سے نکلا

دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن

دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن
کس صدا کا تھا نہ جانے امکان
اس کی اک بات کو تنہا مت کر
وہ کہ ہے ربط نوا میں گنجان
ٹوٹی بکھری کوئی شے تھی ایسی
جس نے قائم کی ہماری پہچان

سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف

سفر ہے مِرا اپنے ڈر کی طرف
مِری ایک ذات دِگر کی طرف
بھرے شہر میں اک بیاباں بھی تھا
اشارہ تھا اپنے ہی گھر کی طرف
مِرے واسطے جانے کیا لائے گی
گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف

Monday, 27 June 2016

ذرا سا امکان کس قدر تھا

ذرا سا امکان کس قدر تھا
فضا میں ہیجان کس قدر تھا
میں کس قدر تھا قریب اس کے
وہ میری پہچان کس قدر تھا
لباس پر تھا ذرا سا اک داغ
بدن پریشان کس قدر تھا

دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں

دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں
سب سے آگے ہوں میں کچھ اپنی خبر دینے میں
پھینک دیتا ہے ادھر پھول وہ گاہے گاہے
جانے کیا دیر ہے دامن مِرا بھر دینے میں
سیکڑوں گمشدہ دنیائیں دکھادیں اس نے
آ گیا لطف اسے لقمۂ تر دینے میں

Saturday, 25 June 2016

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا
ذرا سے لمس نے روشن کیا بدن اس کا
وہ خاک اڑانے پہ آئے تو سارے دشت اس کے
چلے گداز قدم تو چمن چمن اس کا
وہ جھوٹ سچ سے پرے رات کچھ سناتا تھا
دلوں میں راست اترتا گیا سخن اس کا

Friday, 6 May 2016

وہ جسے اب تک سمجھتا تھا میں پتھر سامنے تھا

وہ جسے اب تک سمجھتا تھا میں پتھر، سامنے تھا
اک پگھلتی موم کا سیال پیکر سامنے تھا
میں نے چاہا آنے والے وقت کا اک عکس دیکھوں
بے کراں ہوتے ہوئے لمحے کا منظر سامنے تھا
اپنی اک پہچان دی آئی گئی باتوں میں اس نے
آج وہ اپنے تعلق سے بھی بڑھ کر سامنے تھا

مست اڑتے پرندوں کو آواز مت دو کہ ڈر جائیں گے

مست اڑتے پرندوں کو آواز مت دو کہ ڈر جائیں گے
آن کی آن میں سارے اوراق منظر بکھر جائیں گے
شام چاندی سی اک یاد پلکوں پہ رکھ کر چلی جاۓ گی
اور ہم روشنی روشنی اپنے اندر اتر جائیں گے
کون ہیں کس جگہ ہیں کہ ٹوٹا ہے جن کے سفر کا نشہ
ایک ڈوبی سی آواز آتی ہے پیہم کہ گھر جائیں گے

Friday, 29 April 2016

ہم ہیں منظر سیہ آسمانوں کا ہے

ہم ہیں منظر سیہ آسمانوں کا ہے
اک عتاب آتے جاتے زمانوں کا ہے
ایک زہرابِ غم سینہ سینہ سفر
ایک کردار سب داستانوں کا ہے
کس مسلسل افق کے مقابل ہیں ہم
کیا عجب سلسلہ امتحانوں کا ہے

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا
اک اور حادثہ مجھ پر گزرنے والا تھا
کہیں سے آ گیا اک ابر درمیاں، ورنہ
مِرے بدن میں یہ سورج اترنے والا تھا
مجھے سنبھال لیا تیری ایک آہٹ نے
سکوتِ شب کی طرح میں بکھرنے والا تھا